بعثت نبوت کے مقاصد |
ہم نوٹ : |
|
کی نظر سے دیکھے کہ ایک دن ہم چھوٹے سے تھے ماں باپ نے ہم کو پالا تو اس نظررحمت کے صدقے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک حج مقبول کا ثواب ملے گا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اگر ہم سو مرتبہ اپنے ماں باپ کو رحمت سے دیکھیں تو کیا اللہ سو حج کا ثواب دے گا؟ فرمایا کہ اللہ پاک اس سے بھی زیادہ کریم ہیں، وہاں کوئی کمی نہیں۔ تو یہ پانچویں تفسیر ہے کہ ہر چیز کو اس کے محل میں خرچ کرو۔ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لیے بنایا ہے اس میں استعمال کرو اور جس چیز سے منع فرمادیا ہے اس سے رُک جاؤ۔ کانوں کو گانا سننے سے منع کیا گیا ہے، آنکھوں کو نامحرم کے دیکھنے سے منع کیا گیا ہے،زبان کو حرام کھانے سے منع کیا گیا ہے،جن اعضا کو جس کام کے لیے اللہ نے پیدا کیا ہے وہی کام ان سے لو،جس کام سے روکا ہے وہ کام ان اعضا سے نہ لو۔ یہی ہے وَضْعُ الْاَشْیَاءِ فِیْ مَحَالِّہَا ۔ تفسیر اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ 12؎ آخر میں فرمایا کہ یا اللہ!یہ پیغمبر کا بھیجنا اور صحابہ کا ایمان لانا اوران کے دلوں کا تزکیہ،اس کے لیے آپ کی زبردست طاقت کی ضرورت اور مدد کی ضرورت ہے۔آپ غالب القدرت ہیں۔ اَلْعَزِیْزُ کےمعنیٰ ہیں اَلْقَادِرُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ وَلَایُعْجِزُہٗ شَیْءٌ فِی اسْتِعْمَالِ قُدْرَتِہٖ ایسی طاقت والا جس کے استعمالِ قدرت میں کوئی چیز رکاوٹ نہ ڈال سکے۔یعنی اگر آپ ارادہ کرلیں گےکہ مجھے اس پیغمبر کو بھیجنا ہے تو وہ پیغمبر آکر رہے گا،اگر آپ ارادہ کرلیں کہ مجھے فلاں فلاں کو اپنے نبی کا صحابی بنانا ہے تو وہ بن کر رہیں گے،اگر آپ کسی کو ولی بنانے کا ارادہ کرلیں تو وہ ولی بن کر رہے گا۔ جب تک آپ کا ارادہ، آپ کی مشیت آپ کی مدد شامل حال نہیں ہوگی کوئی بندہ اللہ والا نہیں بن سکتا ہے۔ اس لیے کہ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ آپ غالب القدرت ہیں اور آپ کی قدرت ایسی ہے کہ اگر کسی چیز کا آپ ارادہ کرلیں تو آپ کے ارادے کو مراد تک پہنچنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ جب آپ ایسے غالب القدرت ہیں، تو آپ ہی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے دعا کی جائے۔اگر اللہ ابھی ارادہ کرلے کہ جتنے لوگ اشرف المدارس کی اس مسجد میں بیٹھے ہیں سب _____________________________________________ 12؎البقرۃ:129