ثبوت قیامت اور اس کے دلائل قرآن پاک کی روشنی میں |
ہم نوٹ : |
|
مثنوی شریف پڑھارہے تھے۔ ایک شعر کی شرح ایک گھنٹہ کی ؎خم کہ از دریا در او راہے شود پیشِ او جیحون ہا زانو زند جس مٹکے کو سمندر سے خفیہ راستہ ہو۔ اب کوئی کہے کہ دریا کا ترجمہ سمندر کیوں ہورہا ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ دریا کا ترجمہ اس شعر میں حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے سمندر فرمایا ہے اور حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ ہماری مثنوی کی سند یہ ہے کہ میں نے مثنوی شریف حضرت شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی،انہوں نے حکیم الامت سے پڑھی اور حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ العرب و العجم حضرت حاجی امداداللہ صاحب سے پڑھی۔ آپ نے میرا سلسلۂ نسب، سلسلۂ تعلیمِ مثنوی سن لیا۔ تو یہاں دریا کا ترجمہ سمندر ہے۔ جس مٹکے کو سمندر سے خفیہ رابطہ ہوگا تو اگرچہ اس مٹکے کے اندر دس بیس کلو پانی ہو، لیکن بڑے بڑے دریائے جیحون و دریائے فرات اس کے سامنے زانوئے ادب تہہ کریں گے۔ کیوں کہ دریائے جیحون خشک ہوسکتے ہیں،لیکن جس مٹکے میں سمندر سے پانی آرہا ہے وہ خشک نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اہل اللہ کے قلوب پر علوم وارد ہوتے ہیں۔ وہ آسمانوں کی پیتے ہیں، دنیا کے کافر زمین کی پیتے ہیں ؎میرے پینے کو دوستو سن لو آسمانوں سے مے اُترتی ہے تو مثنوی کے اس شعر کی شرح کے دوران جب میں نے اپنے شیخ کو دیکھا، تو حضرت کی آنکھیں اُس دن اتنی لال تھیں کہ جیسے ریل کا سگنل سرخ ہوتا ہے اور حضرت والا میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے دیکھ کر ادب سے فوراً نگاہ نیچی کرلی اور تقریباً دس منٹ کے بعد پھر میں نے حضرت کی طرف دیکھاتو پورے مجمع سے نظر ہٹاکر مجھ ہی کو دیکھ رہے تھے بڑی بڑی سرخ آنکھوں سے۔تیسری دفعہ دس پندرہ منٹ کے بعد پھر جب میں نے دیکھا تو حضرت کسی کی طرف نہیں دیکھ رہے تھےمجھ ہی کو لال آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے شمس الدین