ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
حالیہ بارش متاثرین کی اِمداد کے لیے اہل ِ خیر حضرات کی خدمت میں اپیل السلام علیکم ورحمة اللہ علیہ و برکاتہ! اُمید ہے کہ آپ بخیرو عافیت ہوں گے، گزارش یہ ہے کہ ٢٠١٠ء کے تباہ کن سیلاب اَور ٢٠١١ء کی خطرناک بارشوں کے متاثرین اَبھی تک مکمل طور پر آباد نہیں ہو سکے تھے کہ اِس سال اِسی مہینے ستمبر ٢٠١٢ء میں صوبہ سندھ میں ایک مرتبہ پھر شدید برساتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، گزشتہ آٹھ دس دِن سے تقریباً پورے صوبہ سندھ میں تیز بارشیں ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے بہت ساری نہریں بھی ٹوٹ چکی ہیں اَور اُن میں جگہ جگہ شگاف پڑ گئے ہیں، بلوچستان کے پہاڑوں سے آنے والے برساتی نالوں کے پانی نے بھی سندھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اَب تک متعدد ضلع کی سینکڑوں بستیاں زیرِ آب آچکی ہیں، لاکھوں ایکڑ زمین پر موجود فصل تباہ ہو چکی ہے، ہزاروں خاندان اپنی بستیوں سے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے لوگ اِس وقت سخت پریشان ہیں اَور اہلِ خیر حضرات کی طرف دیکھ رہے ہیں۔'' اَلمحمود سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن ''کے پلیٹ فارم سے ٢٠١٠ء کے سیلاب اَور ٢٠١١ء کی برساتوں میں سندھ کے مختلف اِضلاع میں مجموعی طور پر تقریبًا دس کروڑ روپے کا فلاحی کام کیا گیا تھا، اُس فلاحی کام میں متاثرین کو کھانے پینے کی اَشیائ، اَدویات، پینے کا صاف پانی، ٹینٹ اَور شامیانے مہیا کیے گئے تھے، کافی مقامات پر اِنتہائی مفلوک الحال متاثرین کے لیے مکانات تعمیر کر کے اُن کے حوالے کیے گئے تھے، بہت بڑی تعداد میں شہید مساجد کی دوبارہ تعمیر اَور مرمت کرائی گئی تھی اَور خاصی رقم نقد اِمداد کی صورت میں بھی تقسیم کی گئی تھی۔ اِس سال بھی تباہی کچھ کم نہیں ہوئی، تقریبًا وہی ٢٠١٠ ء اَور ٢٠١١ء والے مناظر نظر آرہے ہیں۔