Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012

¾اكستان Ù

60 - 65
١٩٦٥ء میں جامعہ قاسمیہ گیا میں تدریس شروع کی۔١٩٦٧ء میں مدینہ طیبہ تشریف لے گئے،٤ا ماہ وہاں قیام رہا اَور پھر واپس تشریف لائے۔ 
١٣٨٩ھ/ ١٩٦٩ء میں مدرسہ شاہی مراد آبادی میں خدمت ِتدریس پر مامور ہوئے۔ 
دارُالعلوم دیوبند کی نشاةِ ثانیہ کے بعد دارُالعلوم کی طلب پر ١٣٠٣ھ/ ١٩٨٣ء میں دارُالعلوم کی مسند تدریس پر فائز ہوئے اَور اَحادیث ِمبارکہ کے اَسباق سپرد ہوئے۔ 
١٩٨٧ء سے ١٩٩٠ء تک اَور پھر ١٩٩٦ء سے ٢٠١٠ء تک ناظمِ تعلیمات بھی رہے۔ حضرت مولانا سیّد اَسعد صاحب مدنی   کے خلیفۂ اعظم ہیں۔ اُن کی وفات کے بعد ٢٨ فروری ٢٠٠٦ء کو  جمعیت علمائِ ہند کا صدر آپ کو منتخب کیا گیا اَور تاحال اِسی منصب پر فائز ہیں۔ 
جون ٢٠١٢ء میں رابطہ عالم ِ اِسلامی کے تاحیات رُکن منتخب ہوئے۔
اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ عافیت و سلامتی کے ساتھ قائم رکھے اَور حاسدوں کے حسد سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ 
حضرت مولانا سیّد اَرشد صاحب مدنی مدظلہم کے چھ لڑکے اَور پانچ لڑکیاں ہیں۔ 
(٢)  حضرت مولانا سیّد اَسجد صاحب مدنی مدظلہم، فاضل ِ دیوبند ہیں، تصوف میں اپنے  برادر ِ اَکبر حضرت مولانا سیّد اَسعد صاحب مدنی   سے تربیت حاصل کی، جھاڑ کھنڈ میں کئی مدارس آپ کی زیر نگرانی چل رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ مولانا مدنی اَیجوکیشنل ٹرسٹ کے تحت رفاہی اُمور اَنجام دے رہے ہیں۔ جمعیت علمائِ ہند کے ناظم بھی رہے اَور فعال رہنما ہیں۔ حفظہم اللہ تعالیٰ۔ 
(٣ )  صاحبزادی عمرانہ مدظلہا (زوجہ مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری مدظلہم) 
(٤)  صاحبزادی صفوانہ مدظلہا (زوجہ حضرت مولانا محمد نعیم صاحب) 
(٥)  صاحبزادی فرحانہ مدظلہا 
ض  ض  ض

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 یہاں سارے اِسلام کے دُشمن ہیں : 8 1
4 یہاں کے لوگ باغیرت نہیں ،اپنا حکمران اَنگریز کو تسلیم کرلیا : 8 3
5 'زبان' نہ گھستی ہے نہ تھکتی ہے' دماغ' تھک جاتا ہے : 11 3
6 حضرت اَبوبکر اَور '' زبان'' کوسزا : 11 3
7 بلند آواز والے صحابہ ڈر گئے ،حضرت عباس کی آوازدَس میل دُور چلی جاتی تھی : 12 3
8 آپ ۖ کی طرف سے تسلی اَور بشارت : 13 3
9 زیادہ کام زبان سے اَنجام پاتے ہیں : 14 3
10 علمی مضامین سلسلہ نمبر٥٥ 15 3
11 اَنفَاسِ قدسیہ قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 24 1
12 کرامت ِ حسّی : 24 11
13 قسط : ١٤ پردہ کے اَحکام 29 1
14 شرعی پردہ کے تین درجے : 29 13
15 پہلے درجہ کا ثبوت : 29 13
16 پردہ کے دُوسرے درجہ کا ثبوت : 30 13
17 پردہ کے تیسرے یعنی اَعلیٰ درجہ کے پردہ کا ثبوت : 31 13
18 پردہ کی قسموں میں اَصل پردہ تیسرے ہی درجہ کا ہے : 32 13
19 پردہ کے تینوں دَرجوں کے اَحکام اَور اُن کا باہمی فرق : 32 13
20 قسط : ١٠ سیرت خلفائے راشدین 33 1
21 قتالِ مرتدین اَور تجہیز جیش اُسامہ : 33 20
22 کرامت : 36 20
23 قسط : ٧اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 38 1
24 (١) ایک مدت ختم ہونے پرحاملین ِ صکوک میں نفع کی تقسیم : 39 23
25 فقہی اِعتبار سے اِس بحث کے تین مسئلے اَور اُن پر تبصرہ : 40 23
26 (٢) رأس المال کی واپسی کی ضمانت : 40 23
27 ہمارا تبصرہ : 43 23
28 حضرت آپاجان رحمة اللہ علیہا 50 1
29 شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمد مد نی 50 28
Flag Counter