ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
نصیب ہوئی۔ میرے مرشد ثانی حضرت مولانا سیّد اَرشد صاحب مدنی مدظلہم کے یہاں ''مدنی منزل'' میں قیام ہوا، جیسے ہی دیوبند پہنچے مدنی منزل حاضر ہوئے۔ حضرت مولانا کے متعلق اُن کے صاحبزادے نے بتایا کہ مظفر نگر ایک طالب علم کے ولیمے میں تشریف لے گئے ہیں، ظہر تک آجائیں گے۔ حضرت قاری صاحب نے فرمایا : ٹھیک ہے، ہم ظہر کی نمازکے بعد آجائیں گے۔ اُنہوں نے جاکر گھر میں حضرت پیرانی صاحبہ( آپا جان )کو بتایا اُنہوں نے کہلوایا کہ آپ بغیر کھانا کھائے نہیں جا سکتے۔ حضرت قاری صاحب نے ہم سے فرمایا : حضرت پیرانی صاحبہ کا حکم ماننا پڑے گا اِس لیے بیٹھ جاؤ۔ چند ہی منٹ میں دسترخوان لگ گیا اَور ہم نے کھاناکھایا۔ حضرت قاری صاحب نے ہمیں بتایا کہ حضرت مدنی علیہ الرحمة کے زمانے میں بھی بالکل اِسی طرح کھانا آتا تھا اَور دسترخوان لگنے کا یہی طریقہ تھا فرق اِتنا ہے کہ آج حضرت مدنی اِس دستر خوان پر نہیںہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ہم سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ تم کون ہو ، کیا کام ہے ؟ بس کھانا کھاکے جائیں۔ اِس طرح مجھے یہ سعادت اَور نعمت نصیب ہوئی کہ اُس گھر کا نمک کھایا۔'' حضرت شیخ الاسلام رحمة اللہ علیہ کے متوسلین اَور سلسلۂ مدنی کے منتسبین کے لیے بڑے رنج و غم کا موقع ہے کہ حضرت شیخ الاسلام رحمة اللہ علیہ کی اہلیہ محترمہ (جو حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ کی چوتھی زوجہ تھیں) حضرت آپا جان ١٣ اَور ١٤شعبان المعظم ١٤٣٣ھ/ ٤ اَور ٥ جولائی٢٠١٢ء کی درمیانی شب اِس دُنیا سے رُخصت ہوگئیں اِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ حضرت مرحومہ کی جدائی جہاں خاندانِ مدنی کے لیے عظیم حادثہ ہے، وہیں ہمارے لیے بھی غم کا باعث ہے۔ گو کہ خاندانِ مدنی کو حضرت شیخ الاسلام سے ورثے میں یہ بھی مِلا ہے، جسے حضرت مولاناسیّد فریدالوحیدی اِس طرح بیان کرتے ہیں :