ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
آج ٢٩ جولائی کو بابو اَور مولانا عبدالمومن صاحب ١ تشریف لائے۔ بابو سے یہ معلوم ہوا کہ عقد کے لیے ١٤ ، ١٥ شعبان مقرر ہے۔ اُمید یہ ہے کہ تم تمام تفصیلی باتیں خط میں لکھو گی۔ بنارس سے خط آیا ہے کہ وہاں ٢٣ جولائی کو کپڑے روانہ ہوگئے ۔ اُن تھانوں میں سے آدھا آدھا دو جوڑوں کے لیے لے لو جو کہ اَسعد کی بیوی کے لیے بناؤ گی اَور آدھا آدھا فرید ٢ کے لیے رکھ لو، اُس کی شادی بھی اِنشاء اللہ عید کے بعد ہوجائے گی۔ فقط دو دوپٹوں کی کمی رہ جائے گی میں دو جانمازوں کو بنوا کر بوبو بتول اَور بو بو حسینہ کے لیے بھیجتا ہوں۔ اَسعد لے جا کر اُن کی خدمت میں پیش کردے۔ اَپنی اماں سے بہت بہت سلام کہہ دو۔ والسلام ننگ ِ اسلاف حسین اَحمد غفرلہ (مکتوب شیخ الاسلام ج ٤ ص ٣٠٤، ٣٠٥) حضرت آپاجان رحمة اللہ علیہا کے متعلق یہ معلومات حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ کے مبارک قلم سے تھیں جن سے گھریلو ماحول کی پاکیزگی اَور سیرت کے اَحوال مِل جاتے ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام کے گھر کا دستر خوان بڑا وسیع تھا، اپنے اَور پرائے سب اِس سے مستفید ہوتے تھے۔ میں اَپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کروں۔ ''١٩٨٧ء میں اپنے جد اَمجد حضرت مولانا قاری شریف اَحمد صاحب نور اللہ مرقدہ کے ساتھ ہندوستان گیا، اِس سفر میں دارُالعلوم دیوبند اَور بعض اَکابر دیوبند کی زیارت ١ اِبن اِمام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی، مرشدی حضرت مولانا سیّد اَرشد مدنی دامت برکاتہم کے خسرہیں۔ ٢ حضرت مولانا سیّد فرید الوحیدی، مصنف : ''مولانا حسین اَحمد مدنی ایک تاریخی مطالعہ ۔'' حضرت مولانا وحید اَحمد مدنی کے صاحبزادے تھے، حضرت شیخ الاسلام کے پوتے ہوئے، اِن کی پرورش حضرت شیخ الاسلام نے کی تھی۔ (تنویر اَحمدشریفی)