ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
تم کو ١٥ جولائی پر میرے نہ پہنچنے کا صدمہ نہ کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہوتا ہے وہی ہو کر رہتا ہے اِسی میں خیر ہوگی۔ بندہ کو آقا (اَور وہ بھی ایسا کریم و رحیم آقا) کا ہر حکم نہایت خوشی سے ماننا چاہیے بالخصوص جبکہ ہمارے جیسے ہزاروں آدمی ایسی ہی بلاؤں میں مبتلاہوں۔ تم اِطمینان اَور سکون سے وہاں کے کاروبار اَنجام دو۔ اُمید ِقوی ہے کہ اللہ تعالیٰ قاری صاحب کو شفائِ کامل جلد عطا فرمادے تو وہ فورًا دیوبند پہنچ جائیں گے اَور ایسا نہ بھی ہوا تو وہاں مولانا اِعزاز علی صاحب، مولوی محمد عثمان صاحب، منشی محمد شفیع صاحب کو تمام کام وہ سپرد کر آئے ہیں۔ یہ سب حضرات نہایت ہمدردی اَور خیر خواہی اَور جدو جہد سے تمام کام اَنجام دیں گے۔ اَسعد بھی اِمتحان سے فارغ ہو کر ہر قسم کی خدمات اَنجام دے گا، تم کو ذرا بھی پریشان نہ ہونا چاہیے۔ تم دریافت کرتی ہو کہ کن خاص عورتوں کو بلاؤں ؟ تم کو خود اَندازہ ہے مجھ کو لکھنے کی ضرورت نہیں، اَلغرض جہاں تک ممکن ہو اِختصار کے ساتھ اَور سادگی سے معاملہ کرو راجو پورلے جانے کے لیے میں کچھ نہیں بتا سکتا، سوائے جوڑوں اَور سہاگ پورہ اَور زیوروں کے، اَور کیا چیزیں جاتی ہیں مجھ کو کچھ معلوم نہیں، وہاں ہی دریافت کرلینا۔ رسمی چیزیں کچھ نہ ہونی چاہئیں، جو اُمور حاجی صاحب فرمائیں اَور مولانا اِعزاز علی صاحب کی رائے ہو اُس کو کرو، ریحانہ ١ اَب دیوبند پہنچ کر ہم کو بالکل بھول جائے گی وہاں اُس کی دل بستگی کا سامان بہت ہے، اپنی اَماں کو کم اَز کم عید تک ضرور رکھنا۔ ١ حضرت شیخ الاسلام کی بڑی صاحبزادی محترمہ، جو حضرت مولانا رشید الدین صاحب حمیدی خلیفۂ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندہلوی وسابق مہتمم مدرسۂ شاہی مراد آباد کے نکاح میں تھیں۔ (تنویر اَحمد شریفی)