ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
ہی ہے۔ رشتہ ناتاخدا نے بنایا ہے آدمی کے توڑنے سے ٹوٹ نہیں سکتا۔ اَبا، بابا، اَماں، بھاوج، بو بو سب سے سلام کہہ دو۔ اَرشد ، ریحانہ، عتیق، عبید، رشید، بریرہ سب کو دُعا و پیار پہنچے۔ والسلام ننگ ِ اسلاف حسین اَحمد غفرلہ ٢٧ رجب المرجب ١٣٦٣ھ / ١٨ جولائی ١٩٤٤ء ( مکتوبات شیخ الاسلام ج ٤ ص ٣٠١ تا ٣٠٣ ) اِس مکتوب کی خوبیوں پر مرتب مکتوبات شیخ الاسلام حضرت مولانا نجم الدین صاحب اِصلاحی یہ حاشیہ تحریر فرماتے ہیں : ''اِس والا نامہ پر حاشیہ لکھنا چاہا مگر آنکھوں نے مجبور کردیا کہ اِس کو اِسی طرح رہنے دو، سطر سطر سے عبدیت اَور عزیمت کی شان ظاہر ہے۔ اللہ اکبر ! تعلیم دی جا رہی ہے کہ کوئی تذکرہ بھی کرے تو ہنس کر ٹال دو۔ کیسا نازک موقع ہے اَور کتنی نازک پوزیشن ہے اَور کون مخاطب ہے، پھر بھی دامانِ خدا ہاتھ ہی کے اَندر ہے ذرا بھی کمزوری نہیں۔'' حضرت آپا جان نور اللہ مرقدہا کے نام حضرت شیخ الاسلام رحمة اللہ علیہ دُوسرے خط میں تحریر فرماتے ہیں : ''تمہارا خط ١٧ جولائی کالکھا ہوا مِلا، اِسی کے ساتھ مولوی فضل الرحمن صاحب کا کارڈ ١٩ جولائی کو مِل گیا کہ مولوی حمید تم سبہوں کو لے کر ڈاک گاڑی سے دیو بند روانہ ہوگئے۔ اُمید ِ قوی ہے کہ تم سب بخیریت و عافیت دیوبند پہنچ گئے ہو گے اَور ہر طرح وہاں اِطمینانی صورتیں پائی ہوں گی۔ قاری صاحب کا ١٩ جولائی کا خط مِلا ہے، وہ کہتے ہیں کہ : بحمدللہ! مرض میں اَب تخفیف ہے اَلبتہ ضعف بہت زیادہ ہے۔