ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہو اُس پر اِنسان کو خوشی سے راضی رہنا چاہیے ورنہ بہ مجبوری راضی ہونا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے تو اَنبیاء علیہم السلام کو سر جھکانا پڑتا ہے اَور بغیر ماننے کے چارہ نہیں ہوتا۔ اَولیاء اللہ کو کون پوچھتا ہے اَور جب ایسے ایسے بڑوں کا یہ حال ہے تو ہم جیسے گناہگار دُنیا کے کتے کس شمار میں ہوسکتے ہیں ؟ تمہارا یہ کہنا کہ تو دُعا نہیں کرتا ،تو خود ہمارے پاس آنا نہیں چاہتا، تو خود رہائی نہیں چاہتا بالکل غلط ہے کوئی معمولی عقل کا آدمی بھی کسی دُنیاوی اَور آخرت کی مصیبت پر خوش نہیں ہو سکتا ، جبکہ ایک معمولی سمجھ کا بچہ بھی گوارہ نہیں کر سکتا ہے کہ اُس کے ہاتھ پیر باندھ دیے جائیں یا کسی مکان میں اُس کو مقفل کردیا جائے تو میں کس طرح اِس پر خوش ہوجاؤں گا اَور مصائب کو گوارہ کروں گا دُعا نہ کروں گا ۔ ایسی صورتوں میں تو اَگر نہ بھی چاہے تب بھی دِل سے دُعا نکلے گی، مگر واقعہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جبکہ بڑوں بڑوں کی پیش نہیں جاتی تو ہم جیسے نالائق لوگوں کی بات کس طرح چل سکتی ہے ؟ غرضیکہ تمہارا خیال صحیح نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو اِنشاء اللہ ! ہم جلد آئیں گے تم اِطمینان اَور خوشی خرمی کے ساتھ رہو اَور تمام کاموں کو اِس طرح اَنجام دو کہ گویا کسی قسم کا تکدر اَور حزن وملال کی بات پیش ہی نہیں آئی۔ آنے والی اَور ملنے والی عورتوں پر ہر گز کسی قسم کی پریشانی کا اِظہار نہ ہونے دو، کوئی تذکرہ بھی کرے تو ہنس کر ٹال دو۔ حاجی صاحب کو ہندوستانی کپڑوں کے بنانے کے لیے مجھ کو لکھنے کی ضرورت نہیں ہے، تم ہی اُن کو کہلوادینا اَوریہ بھی کہلوادینا کہ حسین اَحمد اَور اَسعد دونوں یہی پسند کرتے ہیں، جیسا دیس ویسا بھیس، یہاں رہ کر یہاں کا ہی لباس ہونا چاہیے۔ ایسی بات نہ ہونی چاہیے جس سے ہنسائی کا موقع ملے یا کسی کوحرف گیری کی نوبت آئے رشتہ داروں میں مجبوری طور پر تحمل کرنا اَور میل جول رکھنا، غصہ اَور غم کو تھوک دینا پڑتا