ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012 |
اكستان |
|
حضرت شیخ الاسلام نور اللہ مرقدہ جیل میں مقید تھے ،مرشدی حضرت مولانا سیّد اَسعدمدنی کی شادی کی فکر حضرت کو ہوئی تو اَپنی اہلیہ محترمہ ''آپاجان'' کو تحریر فرمایا : ''میری رفیقۂ حیات! تم کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ سلامت اَور خوش و خرم رکھے، آمین! اَلسلام علیکم ورحمة اللہ وبر کاتہ تمہارا خط ١٣ رجب (١٣٦٣ھ /٤ جولائی ١٩٤٤ئ) کا پہنچا ۔اِس سے پہلے میں نے ٢٢ رجب کو خط لکھا ہے، وہ پہنچا ہوگا جس میں اِطلاع دی تھی کہ اِس وقت ممکن نہیں ہے کہ میں آسکوں اِس لیے تم میرا اِنتظار ہرگز مت کرو اَور جلد دَیو بند روانہ ہوجاؤ اگر اَبھی تک یعنی اِس خط کے پہنچنے تک تم روانہ نہ ہوئی ہو تو اَب جلد رَوانہ ہوجاؤ، بھاوج صاحبہ (تمہاری اَماں) کا ساتھ جانا بہت بہتر اَور مناسب ہے تمام اُمور میں آسانیاں رہیں گی مگر اُن کو کم اَز کم عید تک وہاں ہی رہنا چاہیے۔ ایسی کیا جلدی ہے کہ شادی ہونے کے بعد ہی واپس ہوجائیں۔ اِلہداد پور میں تمام ضروریات تمہاری بھاوج اَور بو بو اَنجام دیتی رہیں گی۔ تم غلط اَور فضول خیال کرتی ہو کہ شادی میں میرا موجود ہونا ضروری ہے، تمہارا موجود ہونا اَسعد اَور عائشہ ١ دونوں کے لیے کافی ہے۔ شادیوں کے تمام اِنتظام عورتیں ہی کرتی ہیں، تم اَسعد کی بھی ماں ہو اَور عائشہ کی بھی، بیرونی اِنتظامات قاری صاحب ٢ اَور منشی شفیع صاحب اَور دُوسرے لوگ کر لیں گے۔ میرا موجود ہونا نہ ہونا دونوں برابر ہیں اَوربالخصوص اِس مہنگائی کے وقت میں تو کوئی خاص اِنتظام ہو بھی نہیں سکتا۔ سب کام نہایت اِختصار اَور سادگی سے ہونے چاہیے ١ عائشہ! حضرت شیخ الاسلام کی دُوسری صاحبزادی جو مولانا عبدالحئی صاحب کے نکاح میں ہیں۔( تنویر اَحمد شریفی) ٢ حضرت مولانا قاری اَصغر علی صاحب خادمِ خاص و خلیفۂ مجاز حضرت شیخ الاسلام( تنویر اَحمدشریفی)