ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012 |
اكستان |
|
جھگڑے بند ہوجائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس کا تذکرہ نہیں آیا ہے میں مشورہ کر کے خبر دیتا ہوں۔ اَلحاصل اُنہوں نے مشورہ لیا اَور چھوارے منگا کر اُس مجمع میں جس میں کچھ اَحباب ملنے کی غرض سے آئے تھے مہرِ فاطمی پر عقد کردیا۔ اِس کے بعدوحید ١ اَور اُس کے خسرو وغیرہ کااِصرار ہوا کہ ایک شب یہاں قیام کرلیا جائے۔ زیادہ اِصرار پر بجز اِس کے کوئی چاہ نظر نہ آیا چنانچہ یکم رمضان سہ شنبہ کو میں ٹانڈہ سے روانہ ہو گیا۔ جو حالت مشاہدہ ہوئی مجھ کو قوی اُمید ہے کہ یہ عقد باعثِ طمانیت خاطر ہوگا۔ آئندہ جو قضائے اِلٰہی ہو اُس میں دَم مارنے کی جگہ نہیں ہے۔ اَسعد بخیریت ہے، اَپنی نئی اَماں سے بہت زیادہ مانوس ہوگیا ہے حتی کہ اُس نے یہاں کی عورتوں سے کہا کہ مجھ کو اپنی نئی اَماں سے اِس قدر محبت ہو گئی ہے کہ اَب مجھ کو پہلی اَماں کی یاد نہیں ستاتی اَور اُس کو بھی اَسعد ٢ کے ساتھ گرویدگی ایسی معلوم ہوئی جو کہ اپنے بچے سے ہوتی ہے۔ اَللّٰہُمَّ زِدْ فَزِدْ۔ والسلام حسین اَحمد غفرلہ ٢٢ رمضان المبارک ١٣٥٥ھ/٦ دسمبر ١٩٣٦ئ (مکتوبات شیخ الاسلام : ج ١ ص ١٦٥ و ١٦٦ مطبوعہ کراچی ١٩٩٥ء ) ١ حضرت مولانا وحید اَحمد مدنی حضرت شیخ الاسلام کے بھتیجے تھے، حضرت مولانا صدیق اَحمد مدنی کے صاحبزادے ، تنویر اَحمد شریفی۔ ٢ مرشدی حضرت مولانا سیّد اَسعد مدنی کی عمر اُس وقت تقریبًا ساڑھے سات سال تھی، تنویر اَحمد شریفی