Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012

¾اكستان Ù

27 - 65
وقت گاڑی کا وقت قریب ہے حضرت تشریف لے جا رہے ہیں میں اِن کو اسٹیشن پر چھوڑ آؤں اُس کے بعد جو چاہے کرنا مگر وہ نہ مانا۔ 
بہر حال حضرت تو تانگہ سے اُتر کر پیدل چل دیے جس کا آج تک مجھے ملال ہے اَور سپاہی میرا تانگہ لے کر چوکی پر آیا اَور وہاں سے تھانے لے کر آیا لیکن اِتفاق سے تھانیدار موجود نہ تھا ،بوڑھا جس کے چوٹ آئی تھی ہسپتال بھیجا گیا تو اِتفاق سے وہاں بھی ڈاکٹر موجود نہ تھا۔ شام کو جب تھانیدار صاحب آئے تو اُنہوں نے واقعہ سنااَور سپاہی پر بہت برہم ہوئے کہ تونے دیکھا نہیں کہ مولانا پیدل تشریف لے گئے اَور کچھ خیال نہیں کیا۔ بہرحال اُس سپاہی کو وہاں سے تبدیل کردیا اَور بوڑھے کو دو سو روپے دے کر راضی کیا اِس طرح سے میری جان بخشی ہوئی۔ 
(٣)  مولانا رحیم الدین صاحب نے فرمایا کہ ایک مرتبہ مظفر نگر سے کھتولی کو بذریعہ لاری جارہا تھا ۔اُس لاری میں حضرت  بھی تشریف فرما تھے لاری میں چوبیس سیٹیں تھیں لیکن بٹھا لیے گئے تھے  چھتیس آدمی، نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس والے نے لاری کو روک لیاڈرائیور وغیرہ نے کہا اَب جانے دیجیے  اُس نے کہا کہ میں جب تک گاڑی چیک نہ کرلوں گا جانے نہ دُوں گا ،گاڑی میں سواری زیادہ ہیں بہرحال وہ اَندر آیا اَور سواریوں کو شمار کیا تو چوبیس سواریاں اُس کے شمار میں آئیں، غرض کہ ہر طرف سے اُس نے گنا لیکن چوبیس سواریوں سے زیادہ شمار نہ کر سکا حالانکہ سواریاںچھتیس ہی تھیں۔ ہار کر وہ گاڑی کے چالان سے باز آیا۔ 
(٤)  بانس کنڈی آسام سے راقم الحروف قیام رمضان المبارک کے بعد وطن کے لیے رُخصت ہوا اَور حضرت سے دُعا ء ِعافیت کرائی چنانچہ اَثنائے سفر میں گاڑی بدر پورا اَور پنڈو گھاٹ کے دَرمیان سفر کر رہی تھی کہ راقم الحروف کی آنکھ کھلی کہ بالکل اُجالا ہو گیا تھا چنانچہ راقم الحروف اَپنی اُوپر کی سیٹ سے نیچے آیا اَور بیت الخلاء کے نل سے پانی لے کر وضو کیا، گاڑی کا یہ عالم کہ بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی ناممکن تھا اِس لیے کہ اُس ڈبے میں حد سے زیادہ مسافر اَور سامان موجود تھا ،بہر حال جوں توں کر کے کھڑکی کے پاس آیا تو سورج نکلنے کے قریب تھا، دِل میں خیال کیا کہ اِلٰہی میں تو حضرت سے دُعا کرا کر
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 یہاں سارے اِسلام کے دُشمن ہیں : 8 1
4 یہاں کے لوگ باغیرت نہیں ،اپنا حکمران اَنگریز کو تسلیم کرلیا : 8 3
5 'زبان' نہ گھستی ہے نہ تھکتی ہے' دماغ' تھک جاتا ہے : 11 3
6 حضرت اَبوبکر اَور '' زبان'' کوسزا : 11 3
7 بلند آواز والے صحابہ ڈر گئے ،حضرت عباس کی آوازدَس میل دُور چلی جاتی تھی : 12 3
8 آپ ۖ کی طرف سے تسلی اَور بشارت : 13 3
9 زیادہ کام زبان سے اَنجام پاتے ہیں : 14 3
10 علمی مضامین سلسلہ نمبر٥٥ 15 3
11 اَنفَاسِ قدسیہ قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 24 1
12 کرامت ِ حسّی : 24 11
13 قسط : ١٤ پردہ کے اَحکام 29 1
14 شرعی پردہ کے تین درجے : 29 13
15 پہلے درجہ کا ثبوت : 29 13
16 پردہ کے دُوسرے درجہ کا ثبوت : 30 13
17 پردہ کے تیسرے یعنی اَعلیٰ درجہ کے پردہ کا ثبوت : 31 13
18 پردہ کی قسموں میں اَصل پردہ تیسرے ہی درجہ کا ہے : 32 13
19 پردہ کے تینوں دَرجوں کے اَحکام اَور اُن کا باہمی فرق : 32 13
20 قسط : ١٠ سیرت خلفائے راشدین 33 1
21 قتالِ مرتدین اَور تجہیز جیش اُسامہ : 33 20
22 کرامت : 36 20
23 قسط : ٧اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 38 1
24 (١) ایک مدت ختم ہونے پرحاملین ِ صکوک میں نفع کی تقسیم : 39 23
25 فقہی اِعتبار سے اِس بحث کے تین مسئلے اَور اُن پر تبصرہ : 40 23
26 (٢) رأس المال کی واپسی کی ضمانت : 40 23
27 ہمارا تبصرہ : 43 23
28 حضرت آپاجان رحمة اللہ علیہا 50 1
29 شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمد مد نی 50 28
Flag Counter