Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2008

اكستان

16 - 64
تمام کتابوں میں نہیں ہے۔ مسندامام اعظم میں نہیں ہے۔ ابتدائی سیرت نگاروں نے بھی اِسے قبول نہیں کیا۔  سیرت ابن ِاسحاق میں نہیں ہے۔ 
40 ۔  غرض امام ابوحنیفہ اوراُن کے مختص تلامیذنے اِس روایت ِہشام کوقبول نہیں کیا۔ اور امام مالک نے بھی اِسے قبول نہیں کیا۔ دُوسری صدی کے آخرمیں امام شافعی نے اِسے قبول کیاپھرامام احمد نے قبول کیا۔ 
احناف میں سے سب سے پہلے شمس الائمہ سرخسی ٤٥٠ ھ کے بعدمبسوط میں ذکرکیااوراُس سے اسشتہادکیامعلوم نہیں مالکیہ نے کب قبول کیا۔
41 ۔  محدثین رحمہم اللہ نے امکان بھرکوشش کی روایات میں کوئی کھوٹ نہ آنے پائے۔ کوئی غلط بات آنحضرت  ۖ  کی طرف منسوب نہ ہومگرفطرت ِانسانی میں بھول چوک شامل ہے۔ 
 42۔  میں نے اُصول ِحدیث کوسامنے رکھ کرروایات کوپرکھاہے۔ آخرمیں بھی اِنسان ہوں اور نسیان وخطا میرے خمیرمیں بھی شامل ہے۔ اِنْ کَانَ الصَّوَابُ فَمِنَ اللّٰہِ وَاِنْ کَانَ الْخَطَائُ فَمِنِّیْ وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ وَالْمُعِزُّ ۔
43 ۔  محدثین دانستہً کسی موضوع روایت کواپنی کتابوں میں نہیں لائے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی طرف سے پوری تحقیق کرکے روایات کوقبول کیاہے۔ خصوصیت سے احکام کی روایات میں بہت زیادہ چھان بین کی ہے لیکن مغازی اورسیرمیں اُن کامعیاراِتناسخت نہیں ہے۔ ابن ِاسحاق کی روایت کوقبول کیاہے اِس باب میں ضعیف روایات آگئی ہیں بلکہ کچھ غیرواقعی موادبھی شامل ہوگیاہے مگر  اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وہ اِس پربھی اَجرکے مستحق ہیں۔ 
44 ۔  صحاح کی ہرروایت پراِتنااصرارنہیں ہوناچاہیے کہ یہ یقیناً صحیح ہے خبرآحاد کے قبول کا دارومدار ظن ِغالب پرہے اوراُس میں ہروقت غلطی کااِحتمال ہے بلکہ بعض دفعہ واقعی میں غلطی موجودہوتی ہے۔ 
45 ۔  اِسی لیے قبول ِروایت کے اُصول بنائے گئے ۔ ہم اُن کے ذریعے روایات کے اَسقام کو  معلوم کر سکیں ۔اِسی لیے محدثین روایت کے ساتھ سند بیان کر دیتے ہیںتاکہ وہ ذمہ سے بری ہوں۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 عجم کے بڑے بڑے امام : 6 3
5 آیت کا مصداق امام اعظم پہلے 7 3
6 وہبی درجے (صحابہ ،تابعین اورتبع تابعین ) : 7 3
7 نبی کی صحبت اور زمانہ کی قربت کی وجہ سے اِن کو رِیاضتوں کی ضرورت نہ پڑی 7 3
8 خیر القرون کے بعد والے حضرات کی نبی علیہ السلام سے رُوحانی نسبت 8 3
9 حضرت عیسٰی علیہ السلام نبی علیہ السلام ہی کے بتلائے ہوئے اُمور انجام دیں 8 3
10 3جب کافر ہی نہیں رہیں گے تو اُن کے کھانے کوسُور بھی نہیں رہیں گے 9 3
11 صحابہ والی اَفضلیت کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی : 9 3
12 اِس رُوحانی تعلق کا ظہور کب اور کہاں ہو گا؟ 9 3
13 اُمت کے صالح علماء کا درجہ : 9 3
14 '' اَمر بالمعروف ''کافی نہیں ''نہی عن المنکر'' بھی ضروری ہے 10 3
15 ''مجدد'' اور'' تجدید ''کا مطلب : 10 3
16 ملفوظات شیخ الاسلام 11 1
17 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 13 1
18 تقریب ختم ِ بخاری شریف 18 1
19 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 28 1
20 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کاجہیز : 28 19
21 ولیمہ : 28 19
22 کام کی تقسیم : 28 19
23 اَولاد : 28 19
24 عورتوں کے رُوحانی امراض 31 1
25 عورتیں بھی کامل ہوسکتی ہیں : 31 24
26 کیا تکافل کا نظام اِسلامی ہے؟ 34 1
27 گلدستۂ اَحادیث 42 1
28 چاہیے : 42 27
29 ایسی چار چیزیں جن کا ملنا دُنیا وآخرت کی بھلائی کاملناہے 42 27
30 رمضان المبارک کی عظیم الشان فضیلتیں اوربرکتیں 44 1
31 آنحضرت ۖ کا رمضان المبارک سے متعلق اہم خطبہ : 44 30
32 صدرجمعیت علما ئے ہند 50 1
33 حضرت مولاناسید محمداَرشد صاحب مدنی دامت برکاتہم 50 32
34 کیاوہ عافیہ صدیقی ہے؟ 58 1
35 دینی مسائل 62 1
36 طلاق تین قسم کی ہوتی ہے : 62 35
37 ۔ طلاق ِبائن : 62 35
38 32 ۔ طلاق ِمغلظہ : 62 35
39 3 ۔ طلاق ِرجعی : 62 35
40 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter