ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2008 |
اكستان |
|
تمام کتابوں میں نہیں ہے۔ مسندامام اعظم میں نہیں ہے۔ ابتدائی سیرت نگاروں نے بھی اِسے قبول نہیں کیا۔ سیرت ابن ِاسحاق میں نہیں ہے۔ 40 ۔ غرض امام ابوحنیفہ اوراُن کے مختص تلامیذنے اِس روایت ِہشام کوقبول نہیں کیا۔ اور امام مالک نے بھی اِسے قبول نہیں کیا۔ دُوسری صدی کے آخرمیں امام شافعی نے اِسے قبول کیاپھرامام احمد نے قبول کیا۔ احناف میں سے سب سے پہلے شمس الائمہ سرخسی ٤٥٠ ھ کے بعدمبسوط میں ذکرکیااوراُس سے اسشتہادکیامعلوم نہیں مالکیہ نے کب قبول کیا۔ 41 ۔ محدثین رحمہم اللہ نے امکان بھرکوشش کی روایات میں کوئی کھوٹ نہ آنے پائے۔ کوئی غلط بات آنحضرت ۖ کی طرف منسوب نہ ہومگرفطرت ِانسانی میں بھول چوک شامل ہے۔ 42۔ میں نے اُصول ِحدیث کوسامنے رکھ کرروایات کوپرکھاہے۔ آخرمیں بھی اِنسان ہوں اور نسیان وخطا میرے خمیرمیں بھی شامل ہے۔ اِنْ کَانَ الصَّوَابُ فَمِنَ اللّٰہِ وَاِنْ کَانَ الْخَطَائُ فَمِنِّیْ وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ وَالْمُعِزُّ ۔ 43 ۔ محدثین دانستہً کسی موضوع روایت کواپنی کتابوں میں نہیں لائے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی طرف سے پوری تحقیق کرکے روایات کوقبول کیاہے۔ خصوصیت سے احکام کی روایات میں بہت زیادہ چھان بین کی ہے لیکن مغازی اورسیرمیں اُن کامعیاراِتناسخت نہیں ہے۔ ابن ِاسحاق کی روایت کوقبول کیاہے اِس باب میں ضعیف روایات آگئی ہیں بلکہ کچھ غیرواقعی موادبھی شامل ہوگیاہے مگر اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وہ اِس پربھی اَجرکے مستحق ہیں۔ 44 ۔ صحاح کی ہرروایت پراِتنااصرارنہیں ہوناچاہیے کہ یہ یقیناً صحیح ہے خبرآحاد کے قبول کا دارومدار ظن ِغالب پرہے اوراُس میں ہروقت غلطی کااِحتمال ہے بلکہ بعض دفعہ واقعی میں غلطی موجودہوتی ہے۔ 45 ۔ اِسی لیے قبول ِروایت کے اُصول بنائے گئے ۔ ہم اُن کے ذریعے روایات کے اَسقام کو معلوم کر سکیں ۔اِسی لیے محدثین روایت کے ساتھ سند بیان کر دیتے ہیںتاکہ وہ ذمہ سے بری ہوں۔