ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2007 |
اكستان |
|
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُوْمُ مِنْ غُرَّةِ کُلِّ شَھْرٍ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ وَقَلَّمَا کَانَ یُفْطِرُ یَوْمَ الْجُمُعَةِ۔ (ترمذی، نسائی بحوالہ مشکٰوة ص ١٨٠) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ۖ کبھی کبھی مہینہ کے شروع کے تین دنوں میں بھی روزہ رکھ لیا کرتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ ۖ جمعہ کے دن روزہ نہ رکھتے ہوں۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُنِیْ اَنْ اَصُوْمَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ اَوَّلُھَا الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسُ۔ ( ابوداود، نسائی بحوالہ مشکٰوة ص ١٨٠) حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم ۖ مجھے حکم دیا کرتے تھے کہ میں ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھا کروں اور اُن کی ابتدا پیر یا جمعرات سے کیا کروں۔ ف : مندرجہ بالا احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہورہا ہے کہ ہر مہینہ تین نفلی روزے رکھنے چاہئیں جنابِ رسول اللہ ۖ خود بھی ہر مہینے تین روزے رکھتے تھے اور صحابۂ کرام کو بھی رکھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے ۔اِنہی احادیث ِ مبارکہ سے یہ بات بھی ثابت ہورہی ہے کہ یہ روزے مہینہ کے کسی بھی تین دن میں رکھے جاسکتے ہیں چاہے مہینے کے شروع میں رکھ لیں چاہے درمیان میں رکھ لیں چاہے اَخیر میں رکھ لیں، اور ایسی صورت میں اگر روزوں کی اِبتداء پیر یا جمعرات سے کرلیں تو اچھا ہے۔ تاہم چونکہ جنابِ نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو چاند کی تیرہ چودہ پندرہ تاریخ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا (جنہیں ایامِ بیض کہتے ہیں) اور آپ کا اپنا معمول بھی اکثر اِنہی ایام میں روزہ رکھنے کا تھا چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ۖ سفر و حضر میں کبھی بھی ایامِ بیض کے روزوں کا ناغہ نہیں فرماتے تھے۔ ۔ اِس لیے اگر اِن ایام میں روزہ رکھنے کا معمول بنالیا جائے تو بہت ہی بہتر ہے۔