اِعتاق (آزاد کرنا) اور عِتق (آزاد ہونا ) اِن دنوں کے بارے میں اختلا ف ہے کہ یہ دونوں متجزّی ہیں ،تقسیم کو قبول کرتے ہیں یا نہیں :اِعتاق کا متجزّی ہونا یہ ہے کہ آدھا غلام ایک شخص آزاد کرے اور بقیہ غلام دوسرا شخص ۔اور عِتق کا متجزّی ہونا یہ ہے کہ غلام آدھا آزاد ہو اور آدھا آزاد نہ ہو ۔
امام ابوحنیفہ : عِتق متجزّی نہیں ، اِعتاق متجزّی ہے ۔
صاحبین : عِتق اور اِعتاق دونوں متجزّی نہیں ۔
ائمہ ثلاثہ : عِتق اور اِعتاق دونوں مالک کے معسر ہونے کی حالت میں متجزّی اور موسر ہونے کی
صورت میں غیر متجزّی ہیں ۔
(اِعتاق البعض میں ذکر کردہ تمام تفصیلات ”الدر المنضود، ص:143 ، 144 “ سے تسہیل کے ساتھ ماخوذ ہیں )
اعتاقِ ممنوع سے ولاء ثابت ہوتی ہے یا نہیں :
اِعتاقِ ممنوع کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لئے غلام آزاد کرنے ے بجائے شیطان کے نام پر آزاد کرنا ، ظاہر ہے کہ یہ طریقہ غلط ہے ، لیکن بالاتفاق غلام آزاد ہوجاتا ہے ، البتہ اِس میں اختلاف ہے کہ مُعتِق کو ولاء حاصل ہوگی یا نہیں :
احناف و شوافع : ولاء حاصل ہوگی ، اِس لئے کہ حدیث میں ہے :الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔(مسلم: 1504)
مالکیہ اور حنابلہ : وَلاء حاصل نہیں ہوگی ، اِس لئے کہ وَلاء ایک نعمت ہے ،جو آزاد کرنے والے کو حاصل
ہوتی ہے ، جبکہ یہ مالک اُس کا مستحق نہیں ۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:29/270)