دونوں صورتوں میں مسئلہ کی نوعیت میں چونکہ فرق ہے ، اِس لئے دونوں کی الگ الگ تفصیل ملاحظہ فرمائیں :
مُعتِق موسر ہو :
امام ابوحنیفہ : شریکِ آخَر کو تین اختیار ملیں گے: (1)ضمان ۔ (2)اِعتاق۔(3)اِستِسعاء۔
یعنی شریکِ آخَر جن سے آزاد نہیں کیا وہ اگر چاہے تو مُعتِق سے ضمان لے لے کیونکہ اُس کو نقصان ہوا ہے ، چاہے تو وہ اپنا حصہ بھی آزاد کردے اور اگر چاہے تو مُعتِق کو ضامن بنانے کے بجائے خود اُس غلام سے بقیہ حصہ کی قیمت کا سعایہ کرالے ۔
ائمہ ثلاثہ اور صاحبین :شریکِ آخَر کو صرف ضمان کا اختیار ملے گا ۔
مُعتِق معسر ہو :
امام ابوحنیفہ :شریکِ آخَر کو دو اختیار ملیں گے: (1)اِعتاق ۔ (2)اِستِسعاء ۔
یعنی شریکِ آخر چاہے تو وہ اپنا حصہ بھی آزاد کردےاور اگر چاہے تو غلام سے بقیہ حصہ کی قیمت کا سعایہ کرالے ۔اِس صورت میں مُعتِق کو معسر ہونے کی وجہ سے ضامن نہیں بنایا جاسکتا ۔
صاحبین:شریکِ آخَر کو صرف استِسعاء کا حق حاصل ہوگا ۔
ائمہ ثلاثہ:جتنا حصہ مُعتِق نے آزاد کیا ہے وہ آزاد ہوگااور بقیہ غلام ہوگا۔
مدارِ اختلاف :
ائمہ کرام کا مذکورہ بالا اختلاف در اصل ایک اور اختلاف پر مبنی ہے اور اُس کی تفصیل یہ ہے :