شوافع اور حنابلہ : مُدبَّر غلام کو مطلقاً فروخت کرسکتے ہیں ، خواہ وہ مطلَق ہو یا مقیّد۔
احناف : مُدبَّر مُطلَق کو فروخت نہیں کیا جاسکتا ۔
مالکیہ : مالک اگرمدبَّر بنانے سے پہلے کا مدیون ہو تومالک کی زندگی میں بھی اور وفات کے بعد
بھی فروخت کیا جاسکتا ہے ، ۔ (البنایۃ :6/87)(بذل المجہود:16/288)
وجہِ اختلاف:اختلاف کی وجہ دراصل یہ ہے کہ مدبَّر غلام کو کیا مالک کی زندگی میں کسی درجہ میں آزادی حاصل ہوجاتی ہے یا نہیں، بیع کے جواز کے قائلین کہتے ہیں کہ مالک کی زندگی میں آزادی بالکل حاصل نہیں ہوتی ،پس اِسی لئے مالک اُسے فروخت بھی کرسکتا ہے ۔ جبکہ بیع کے عدمِ جواز کے قائلین کے نزدیک مدبَّر غلام مالک کی زندگی میں ہی ایک گونہ آزاد ہوجاتا ہے ، پس اُس کا فروخت کرنا ایسا ہے جیسا کہ کای آزاد کو فروخت کرنا ۔(بدائع الصنائع:4/ 120)
مدبّر غلام کو فروخت کرنے کی روایات کا جواب :
جن روایات سے مدبَّر غلام کو فروخت کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے اُن کا جواب یہ ہے :
مدبّر سے مدبَّرِ مقیّد مراد ہے ، اورمدبّرِ مقیّد کی بیع ہمارے نزدیک بھی جائزہے ۔
بیع سےمدبّرکی خدمت اور منافع کو فروخت یعنی اجارہ پر دینا مراد ہے ،ذات کو فروخت کرنا مراد نہیں ، اور مدبّرغلام کو اجارہ پر دینا جائز ہے ۔(بذل المجہود:16/289)
مرض الوفات میں غلام آزاد کرنا :
ایک حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ ایک شخص کا کُل مال صرف اُس کے چھ غلام تھے اور اُس نے مرض الوفات کی حالت میں سارے غلام آزاد کردیے ، حالآنکہ وہ صرف دو غلام آزاد کرنے کا اختیار رکھتا تھا ، پس آپﷺنے اُس پر سخت ناگواری کا اظہار فرمایااور اُن میں سے قرعہ اندازی کے ذریعہ دو غلام آزاد قرار دیے(اِس لئے کہ مرض الوفات میں انسان کے لئے اپنے مال کے صرف تہائی حصہ میں تصرّف کرنا جائز ہوتا ہے) اور بقیہ چار غلاموں کو غلامی کی حالت میں واپس لوٹادیا ۔