ایمان اور عمل صالح کا ربط |
ہم نوٹ : |
|
اس وعظ کا تعارف انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین امت کا وہ اعلیٰ ترین طبقہ ہے جس کی برابری کوئی نہیں کرسکتا۔ ان کو یہ اونچا درجہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے عطا ہوا۔ یہ اسی صحبت نبوی کا اعجاز ہے کہ کسی امتی کا اعلیٰ ترین عمل بھی صحابہ کے ادنیٰ عمل تک نہیں پہنچ سکتا۔ عام طور پر تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو بہت زیادہ نیک عمل کرتا ہے اس کا ایمان بھی بہت اونچے درجہ کا ہوتا ہے حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے یعنی جس کا ایمان جتنے اونچے درجے کا ہوتا ہے اس کا نیک عمل بھی اتنا ہی اعلیٰ درجے کا ہوتا ہے۔ شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجددِ زمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وعظ ’’ایمان اور عمل صالح کا ربط‘‘ میں قرآن پاک کی تفسیر اور احادیثِ مبارکہ کی رُوسے بالکل انوکھے اور منفرد انداز میں اس بات کو واضح فرمایا ہے کہ چوں کہ عمل صالح میں وزن ایمان کے درجات کے حساب سے بڑھتا ہے، اسی مقصد کے حصول کے لیے اللہ والوں کی صحبت اختیار کی جاتی ہے کیوں کہ یہ ایمان میں ترقی کا نہایت قوی، مجرب اور مؤثر ذریعہ ہے۔