ایمان اور عمل صالح کا ربط |
ہم نوٹ : |
|
حضرت یوسف علیہ السلام کے خریداروں میں تو لکھا جائے گا۔ تو کوئی شخص بھی اپنے کو محروم نہ سمجھے، دین کے کام میں جو پانچ روپیہ دے سکتا ہے وہ پانچ روپیہ دے دے مگر جو پانچ ہزار دے سکتا ہے تو سمجھ لو کہ جس دروازے سے ہوا جس اسپیڈ سے آرہی ہو اُس ہوا کے نکلنے کا دروازہ بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے، اگر ہوا کے نکلنے کا دروازہ چھوٹا ہوگا تو بڑے دروازے سے جو ہوا آرہی ہے اس کی اسپیڈ بھی کم ہو جائے گی۔ اسی طرح جو کماتا تو زیادہ ہے مگر اﷲ کی راہ میں تنگی سے دیتا ہے اس کی عالمِ غیب سے روزی بھی تنگ ہوجائے گی، اﷲ کے یہاں یہ چالاکی نہیں چلے گی، جیسی اللہ تعالیٰ کے پاس سے آمدنی کی ہوا آرہی ہے اُسی مقدار سے رفت کی ہوا ہونی چاہیے تاکہ عالمِ غیب سے اسی مقدار میں دوسری روزی آتی رہے۔ آپ جتنی ہمت کے ساتھ اﷲ کے دین کی مدد کریں گےاللہ آپ کی مدد کرے گا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بالکل کنگال ہوجاتے، ان کے بیوی بچے بھوکے مر جاتے کیوں کہ انہوں نے اپنا سارا مال اﷲ کی راہ میں دے دیاتھا مگر میں یہ نہیں کہتا کہ سب مال دے دو کیوں کہ ہر شخص کا ایمان صدیقِ اکبر جیسا نہیں۔ بس اپنے اپنے ایمان اور حوصلے کے لحاظ سے اﷲ کی راہ میں اپنا مال پیش کرو۔ اب دعا کرو کہ اللہ ہم سب کو سلامت رکھے اور صحتِ جسمانی و روحانی ہم سب کو عطا فرمائے اور دونوں جہاں میں عافیت عطا فرمائے اور ہم سب کی جائز حاجتیں پوری فرمائے، مردوں کی جائز حاجتیں بھی اور عورتوں کی جائز حاجتیں بھی اللہ تعالیٰ پوری فرما دے اور اﷲ ہم سب کواپنے گروہِ اولیاء میں شامل فرمادے اور گناہ سے دِل کو نفرت دے دے، طہارت دے دے اور جسم کو حفاظت دے دے۔ بس بے مانگے دوجہاں دے دے، آمین ۔ وَصَلَّی اللہُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ