آداب راہ وفا |
ہم نوٹ : |
|
صحبتِ اہل اللہ کی نافعیت کی دلیل منقول قسمت بدل جاتی ہے کیوں کہ ساری بیماری کا سبب شقاوت ہے اور بخاری شریف کی حدیث ہے لَایَشْقٰی جَلِیْسُہُمْ 29؎جو اللہ کے پیاروں کے ساتھ رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی شقاوت کو سعادت سے بدل دیتے ہیں،نصیب جاگ جاتے ہیں، بد قسمت خوش قسمت ہوجاتا ہے۔جب قسمت اچھی ہوجائے گی تو کوئی روحانی بیماری کیسے رہے گی؟ جو بھی اللہ والوں کے ساتھ رہتا ہے آہستہ آہستہ اللہ والا بن جاتا ہے،لیکن اللہ والا بننے کا ارادہ بھی کرے،کیوں کہ اگر پائلٹ کا لڑکا پائلٹ کے ساتھ تو رہتا ہے لیکن جہاز چلانا سیکھتا نہیں ہے، آنکھ بند کیے سوتا رہتا ہے تو کیا وہ پائلٹ بن جائے گا؟ لہٰذا اللہ والوں کے ساتھ رہو تو یہ ارادہ بھی کرو کہ ہمیں اللہ والا بننا ہے، کچھ محنت کرو، کچھ غم اُٹھاؤ۔ اللہ قیمتی ہے، اللہ کا راستہ قیمتی ہے، اس راہ کا راہ بر یعنی شیخ قیمتی ہے، اس راستے کا راہ برقیمتی ہے۔اس راستے میں نظر بچانے میں جو غم آئے گا وہ قیمتی ہوگا یا نہیں؟ میں تو کہتا ہوں کہ نظر بچانے میں جو غم آئے اس کو ایک ترازو میں رکھو اور سارے عالَم کی خوشیاں دوسری طرف رکھ لو تو سارے عالَم کی خوشیوں سے یہ غم عظیم المرتبت ہوگا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے راستے کا غم ہے۔ اگر ایک کانٹا اللہ تعالیٰ کے راستے میں چبھ جائے،اس کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھو اوردوسری طرف سارے عالَم کے پھول رکھ دو تو یہ کانٹا سارے عالَم کے پھولوں سے عظمت میں بڑھ جائے گا ؎ راہِ حق کا ہر ایک خار اخترؔ رشکِ ریحان و سنبل و سوسن یہی بات اگر ہم سیکھ لیں تو اللہ تعالیٰ کا راستہ آسان ہے۔ بتایئے! صحابہ شہید ہوگئے لیکن اللہ کو ناراض نہیں کیا اور افسوس ہے کہ گردن کٹانا اور شہادت لینا تو درکنار ہم آج اپنی معمولی سی حرام خوشیوں کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بس اختر کی یہی فریاد ہے کہ حرام خوشیوں کو آگ لگادو۔ اللہ تعالیٰ ایسی مستی، ایسی _____________________________________________ 29؎صحیح البخاری: 948/2، (6443) ، باب فضل ذکراللہ تعالٰی،المکتبۃ القدیمیۃ