آداب راہ وفا |
ہم نوٹ : |
|
پہلی علامت:مؤمنین کے ساتھ تواضع و فنائیت، کفار کے ساتھ شدت ۱) اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ 6؎یہ ہمارے عاشقین آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نہایت تواضع و خاکساری سے رہتے ہیں لیکن کافروں پر نہایت سخت ہیں۔ اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ذَلَّ یَذُلُّ کا صِلہ ہمیشہ لام سےآتا ہے۔ جیسے ذَلَّ زَیْدٌ نَفْسَہٗ لِفُلَانٍ زید نے اپنے نفس کو ذلیل کردیا فلاں کے لیے لیکن یہاں عَلٰی کیوں آیا؟ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نحو کے کلیہ کے خلاف عَلٰی استعمال کیا تاکہ اقوامِ عالم کو معلوم ہوجائے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا اپنے نفس کو ذلیل کرنا اس لیے نہیں ہے کہ یہ ذلت کے عادی تھے بلکہ عَلٰی نازل کرکے بتادیا کہ یہ بہت بڑے درجے کے لوگ ہیں، مَعَ عُلُوِّ طَبَقَتِہِمْ وَفَضْلِھِمْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ 7؎یہ اپنے نفس کو مٹارہے ہیں، اپنے مسلمان بھائیوں کے سامنے اپنے نفس کو ذلیل کردیتے ہیں اور اپنے کو کچھ نہیں سمجھتے،اپنے نفس کی اکڑفوں کو ختم کرچکے، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے سامنے بچھا جاتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک دفعہ چُوک ہوگئی، حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے بلال! تم کالے ہو لیکن فوراً تنبیہ ہوئی کہ آج یہ میرے منہ سے کیا نکل گیا۔ فوراً زمین پر لیٹ گئے؎ چوم لیتا ہے فلک بڑھ کے زمیں کو اخترؔ ہو مبارک کسی عاصی کا پشیماں ہونا اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ یاسیدی بلال! اے میرے سردار بلال اپنے پاؤں سے مجھے روند ڈالو تاکہ میری یہ خطا اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں۔ یہ ہے اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لیکن کفار کے ساتھ صحابہ کیسے ہیں؟ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ اگریہ فطرتاً ذلیل ہوتے توکافروں پر کیوں اشد ہیں؟ معلوم ہوا کہ اپنی فطرت کے اعتبار سے یہ بہت بڑے لوگ ہیں، _____________________________________________ 6؎المائدۃ :54 7 ؎روح المعانی:163/6،المائدۃ(54) ، داراحیاءالتراث، بیروت