آداب راہ وفا |
ہم نوٹ : |
|
دائمی خوشی،ایسی لذتِ قرب دیں گے کہ دنیا ہی میں جنت سے زیادہ مزہ پاجاؤگے،کیوں کہ خالق جنت جب دل میں ہوگا تو دنیا ہی میں جنت سے زیادہ مزہ نہ آئے گا؟ کہاں جنت کہاں خالق جنت؟ یہ خیالی پلاؤ نہیں ہے،حقیقت عرض کررہا ہوں۔ ذرا عمل کرکے تو دیکھو۔ اگر یہ مزہ نہ پاؤ تو کہنا؎ وہ شاہِ دو جہاں جس دل میں آئے مزے دونوں جہاں سے بڑھ کے پائے بس اب الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ہیں،اس غیرمحدود ذات کی لذتِ قرب کو ہماری محدود لغت احاطے میں لانے سے قاصر ہے۔ بس دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق دے اور ہم کو جذب فرمالے۔ اگر ہم ان کے نہ بھی بننا چاہیں تو بھی اپنے جذبِ کرم سے ہمیں اپنا بنالے اور ہمیں توفیق عطا فرمادے کہ ہماری زندگی کی ہر سانس ان پر فدا ہو اور ایک سانس بھی ہم ان کو ناراض نہ کریں۔ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ اشکوں کی بلندی خداوند مجھے توفيق دے دے فداکردوں ميں تجھ پر اپنی جاں کو گنہگاروں کے اشکوں کي بلندي کہاں حاصل ہے اختر کہکشاں کو اختر