گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں (مالابار) میں عرب تاجروں کی نوآبادیات میں مساجد کا قیام ودینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوچکا تھا ، لیکن برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔ جہاں تک شمالی ہند میں مدارس کے داغ بیل پڑنے کا تعلق ہے تو اس کی ابتدا ترکوں کی فتوحات کے زمانہ میں ہوگئی تھی ، مگر ۱۲۰۶ عیسوی میں جب دہلی میںمسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔
مدارس کے قیام کا مقصد:
مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔
مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے؟
اب آئیے ایک نظر اس پر بھی ڈالیں کہ مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے۔ مدارس میں یہ علوم پڑھائے جاتے ہیں: علم تجوید ، علم تفسیر ، علم اصول تفسیر، علم حدیث ، علم اصول حدیث ، علم فقہ ،