ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
سرمائے کے ٪20 سے زائد ہوجائے تو وہ زائد ایک فریق (یعنی مضارب) کا ہوگا۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ مدیر کبھی وکیل بالاجرة کے طور پر کام کرتا ہے اَور کبھی مضارب کے طور پر۔ اَور مضارب بھی جب تک نفع نہ ہوا ہو رب المال کے وکیل کے طور پر کام کرتا ہے لیکن پھر بھی وکالت اَور مضاربت کے درمیان بنیادی فرق ہیں مثلًا مضاربت میں کل نفع میں شرکت ہوتی ہے خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ وہبہ زُحیلی اپنی کتاب الفقہ الاسلامی واَدلتہ میں نفع کی شرائط لکھتے ہیں : (١) ان یکون الربح معلوم القدر (نفع کی مقدار معلوم ہو)۔ (٢) ان یکون الربح جزء ا مشاعا ای نسبة عشریة او سھما من الربح کان یتفقا علی ثلث او ربع او نصف ''نفع غیر متعین حصہ ہو یعنی دس کی نسبت سے ہو یا نفع کا ایک حصہ ہو مثلًا دونوں اِس بات پر اِتفاق کرلیں کہ نفع ایک اَور دو کی نسبت سے یا ایک اَور تین کے نسبت سے یا ایک اَور ایک کی نسبت سے ہوگا۔ '' زیرِ بحث صورت میں ظاہر ہے کہ ایک حد تک کا نفع تقسیم ہوگا کل نہیں بلکہ زائد صرف مضارب کو ملے گا جو کہ مضاربت کی شرائط کے خلاف ہے۔ تنبیہ ١ : وہبہ زُحیلی الفقہ الاسلامی واَدلتہ میں اُستاذ خفیف کی کتاب الشرکات سے نقل کرتے ہیں : ویجوز عندالحنفیة ان یشترط لاحد العاقدین دراھم معدودة معلومة ان زاد الربح علی مقدار کذا من الدراہم فذالک شرط صحیح لا یوثر فی صحة المضاربة لانہ لا یؤدی الی جھالة الربح۔ (الشرکات ص ٣٩٣٩)