ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے دعا ء کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے اِس جرم کو معاف فرمائے اَور مجھے اِس رجوع و توبہ پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ ہمارے خیال میں اگر زید زمان المعروف زید حامد اِس طرح کی ایک تحریر یا اِس طرح کا بیان مجمع عام میں لکھ کر یا بیان کرکے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردے یا کسی اخبار میں شائع کرادے تو اِس سارے نزاع کا خاتمہ اور اِس قضیہ کا باآ سانی فیصلہ ہوسکتا ہے، اور آئندہ اُس کے خلاف کسی قسم کی کوئی بدگمانی بھی راہ نہیں پاسکے گی، بلکہ اِس تحریر و بیان کے بعد اُن کے خلاف جو کوئی لب کشائی کرے گا وہ خود منہ کی کھائے گا، لیکن اگر وہ اِن تمام شواہد و قرائن اَور دلائل و براہین کے باوجود جن سے اُس کا یوسف کذاب کے ساتھ مریدی، خلافت، صحابیت اَور عقیدت کا گہرا تعلق ثابت ہوتا ہے ،گومگو کی کیفیت میں رہے گا یا اُس کی وکالت کرتے ہوئے اُس کو صوفی اسکالر اور عاشق رسول ثابت کرنے کے ساتھ یہ کہتا رہے گا کہ میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں تھا یا نہیںہے، تو اُس کی اِس بات کا کیا وزن ہوسکتا ہے؟ یا اُس کی بات کو کوئی عقلمند تسلیم کرسکتا ہے؟ (١٣) خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ زید زمان المعروف زید حامد کو ملعون یوسف کذاب کے ساتھ دیکھ چکے تھے یا اُن کو معلوم تھا کہ یوسف کذاب نے اُس کو اپنا خلیفہ بنایا تھا اور نعوذباللہ اُس کو حضرت ابوبکر صدیق کا خطاب دیا تھا اور اُن حضرات نے اُسی دور میں اُس کی تقریریں بھی سُنی تھیں، اُنہوں نے جب اُس کی حقیقت سے پردہ اُٹھانا چاہا یا علماء کرام سے اُس کے تعاقب کی درخواست کی اَور ہماری طرح دُوسرے حضرات نے اُس کی عیاری کی نشاندہی کرنا چاہی تو اُس نے صاف انکار کردیا کہ میں کسی یوسف کذاب کو نہیں جانتا، کیونکہ یوسف کذاب کا خلیفہ زید زمان تھا اور میرا نام تو زید حامد ہے، اِس پر جب مزید تحقیق کی گئی تو بحمداللہ اُس کی وہ کیسٹ بھی مل گئی جس میں اُس نے اپنی خلافت کے موقع پر تقریر کی تھی جس کا مضمون اُوپر نقل ہوچکا ہے۔ اور یوسف کذاب کے دام تزویر سے نکلنے والے متعدد حضرات مثلاً :ڈاکٹر اسلم، رانا محمد اکرم، ابوبکر محمد علی، سعد موٹن، نوفل اور منصور طیب صاحب وغیرہ نے یقین کے ساتھ باور کرایا کہ یہ ملعون وہی ہے۔ اِن میں سے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ زید حامد کا فتنہ یوسف کذاب کے فتنہ سے بڑھ کر خطرناک ثابت ہوگا کیونکہ یوسف کذاب میڈیا پر نہیں آیا تھا اور لوگ اُس کے اِتنے گرویدہ نہیں ہوئے تھے جتنا اِس سے متأثر ہیں، یا یہ اپنا