ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
حلقہ بناچکا ہے۔ شُنید ہے کہ زید زمان المعروف زید حامد آج کل لوگوں کو وضاحتیں پیش کرتا پھر رہا ہے کہ میرا یوسف کذاب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور میں چیلنج کرتا ہوں کہ جن لوگوں کے پاس ایسے کوئی ثبوت ہوں وہ میرے سامنے لائیں۔ اِس سلسلہ میں عرض ہے کہ ہم اُس کا چیلنج قبول کرتے ہیں اَور ایسے تمام حضرات جو اِس کو اُس دور سے جانتے ہیں جب وہ افغانستان میں پہلے حکمت یار اور بعد اَزاں اَحمد شاہ مسعود کے ساتھ تھا اور پاکستان میں اُن کی ترجمانی کرتا تھا اور پھر یوسف کذاب کے ساتھ وابستہ ہوگیا، اُس دور کی تمام باتیں یاد دِلا کر اُس کے جھوٹ اَور دجل کو آشکارا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اَفسوس تو یہ ہے کہ ہماری نئی نسل اَور بعض دیندار اُس کے سحر میں گرفتار ہیں، بہرحال ہمارا فرض ہے کہ ہم اُمت کو اُس کی فتنہ سامانی سے بچائیں۔ مکرر عرض ہے کہ جہاد ِافغانستان کے حق میں یا امریکا اور یہودیوں کے خلاف تقریریں کرنا، کسی ملحد کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں اِس لیے کہ ایسے ملحدین اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے دُور رس منصوبے ترتیب دیتے ہیں، چنانچہ اہل ِ بصیرت خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ شروع شروع میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ہندوئوں، آریوں اَور عیسائیوں کے خلاف تقریریں، مناظرے اَور مباحثے کرکے اپنی اہمیت منوائی تھی اور اپنے آپ کو اِسلام اَور مسلمانوں کا ترجمان باور کرایا تھا لیکن جب اُس کی شہرت ہوگئی اور اُس کا اعتماد بحال ہوگیا تو اُس کے بعد اُس نے مہدی، مسیح اَور نبی ہونے کے دعوے کیے تھے، ٹھیک اِسی طرح یہ بھی اِسی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ اللہ تعالیٰ اُمت ِمسلمہ کو ایسے فتنہ پروروں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین