ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
گلدستہ ٔ اَحادیث ( حضرت مولانا نعیم الدین صاحب ،اُستاذ الحدیث جامعہ مدنیہ لاہور ) چالیس دن کے اَندر اَندر بال اَور ناخن کاٹ لینے چاہئیں : عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ وَ قَّتَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَلْقَ الْعَانَةِ وَتَقْلِیْمَ الْاَظْفَارِ وَقَصَّ الشَّارِبِ وَنَتْفَ الْاِبِطِ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا مَرَّةً (ابوداود ج ٢ ص ٢٢١ ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ۖ نے ہمارے لیے زیرِ ناف بال صاف کرنے ،ناخن تراشنے ،مونچھیں کاٹنے اور بغلوں کے بال اُکھیڑنے کے لیے چالیس دِن میں ایک مرتبہ وقت مقرر فرمایا ہے ۔ ف : فقہاء کرام کا کہنا ہے کہ حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ چالیس دن کے اَندر اَندر ایک مرتبہ ضرور یہ کام کر لینے چاہئیں ،چالیس دن سے زیادہ وقت نہیں گزرنا چاہیے ،یہ مطلب نہیں کہ چالیس دن تک اِن کاموں کو مؤخر رکھا جائے اور چالیس دن گزرنے کے بعد یہ کام کیے جائیں اگرایسا کیا تو اِن دنوں میں کیے جانے والے سب کام مکروہ ہوں گے ۔ چالیس دِن تکبیر اُولیٰ کے ساتھ نماز پڑھنے کا ثواب : عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی لِلّٰہِ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا فِیْ جَمَاعَةٍ یُدْرِکُ التَّکْبِیْرَةَ الاُْوْلٰی کُتِبَ لَہ بَرَائَتَانِ بَرَائَ ة مِّنَ النَّارِ وَبَرَائَ ة مِّنَ النِّفَاقِ ۔ ( ترمذی ج١ص ٥٦) حضرتِ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ۖنے فرمایا :جو شخص چالیس دن اللہ کی رضا کے لیے اِس طرح نماز پڑھے کہ تکبیر اُولیٰ کو پائے (یعنی تکبیر اُولیٰ فوت نہ ہو ) تو اُس کو دو پَروانے ملتے ہیں ایک پروانہ جہنم سے چھٹکارے کا دُوسرانفاق سے بری ہونے کا۔