ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
میں کہاں اَور یہ نگہت گل! نسیمِ صبح یہ تیری مہربانی یہ شعر تو بہت پسند آیا، مگر اَب پتہ لگا کہ ذاتِ حق کا کرم اَور اُس کی رحمت، اُس کا خالص کرم کہ یہ نگہت ِگل بھی اَور نسیم ِسحر بھی اَور حصول بھی وہ سب اَندر ہی اَندر موجود ہیں، یہ ایک لباس میں چھپے ہوئے ہیں، ایک اَور ہے بہت عرصہ پہلے علامہ اقبال نے بڑے تڑپ کے ساتھ ایک شعر کہا تھا : کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں کہ ہزار سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں مبارک ہو کہ اَب اِنتظار کی ضرورت نہیں، علامہ اقبال تو منتظر تھے، الحمدللہ ذات حق مل گیا، مبارک ہو۔ دُوسرا تعارف اُس نوجوان صحابی، اُس نوجوان ولی کا کروائوں گا جس کے سفر کا آغاز ہی صدیقیت سے ہوا ہے اور جس رات ہمیں نیابتِ مصطفٰی عطا ہوئی تھی، اگلی صبح ہم کراچی گئے تھے اور سب سے پہلے وابستہ ہونے اَور وارفتہ ہونے والے سیّد زید زمان ہی تھے۔ آئیں سیّد زیدزمان نعرئہ تکبیر۔ برسوں ایک سفر کی آرزو رہی، کتابوں میں پڑھا تھا چالیس چالیس سال پچاس پچاس سال چلے کیے جاتے تھے ریاضت اَور مجاہدہ ہوتا تھا، میرے آقا سیّدنا علیہ الصلوٰة والسلام کی اِنتہا سے اِنتہائی شدید انتہائی محبت کے بعد ایک طویل سفر، ریاضت کا مجاہدہ کا گزارا جاتا تھا تو آقا کی زیارت ہوتی تھی ایک سفر کا آغاز، ہمیشہ سے یہ پڑھا اور سنا اور خوف یہ کہ کہاں ہم! کہاں یہ ماحول! کہاں یہ دَور! کس کے پاس وقت ہے کہ برسوں کے چلّے کرے، کس کے پاس وقت ہے کہ صدیوں کی عبادتیں کرے اور پھر صرف دِیدار نصیب ہو، تڑپ تو تھی کہ صرف زیارت و دیدار ایسا نصیب ہو کہ صرف اِس جہاں میں نہیں، صرف آخرت میں نہیں، صرف لامکاں میں نہیں، ثم الورٰی ، ثم الورٰی ، ثم الورٰی ، وصل