ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
ہیں، اِس صاحب کے جو مصاحب ہیں وہی تو صحابی ہیں۔ اِن صحابہ کے ذریعہ کائنات میں ربط لگا ہوا ہے اِن کے صدقہ کائنات میں رزق تقسیم ہورہا ہے، اِن کے صدقہ شادی بیاہ ہورہے ہیں، اِن کے صدقہ پانی مل رہا ہے، اِن کے صدقہ ہوا چل رہی ہے، اِن کے صدقہ چاند کی چاندنی ہے، اِن کے صدقہ سورج کی روشنی ہے، یہ نہ ہوں تو اللہ بھی قسم اُٹھاتا ہے کہ کچھ بھی نہ ہو گا۔ حتی کہ یہ جو سانس آرہا ہے یہ بھی اِن کے صدقہ ہے۔یہ ہیں وہ صحابہ، اِن کا آپ کو علم ہے کہ دُنیا کے کتنے بڑے ولی کیوں نہ ہوں، لاکھوں کروڑوں اُن کے مرید کیوں نہ ہوں، اِن صحابہ کے گھوڑے، الفاظ یہ ہیں: خدا کی قسم! اِن کی سواری کے پیچھے جو گرد اُڑتی ہے، اُس کے برابر بھی وہ پیر، وہ ولی نہیں ہوسکتا جس کے لاکھوں کروڑوں مرید ہیں، کیوں ؟وہ پیر ولی ہیں اللہ کو دیکھے بغیر، یہ ہیں دیکھ کر۔ اِن صحابہ میں ایک ایک اپنی جگہ نمونہ ہے اَور ایک ایک کا تعارف کروانے کو جی چاہتا ہے لیکن ہم صرف دو کا تعارف کروائیں گے عمر کے لحاظ سے دونوں نوجوان ہیں، حقیقت کے لحاظ سے دونوں نوجوان ہیں، ایک وہ خوش نصیب ہستی ہے، کائنات میں وہ واحد ہستی ہے نام بھی اُن کا عبدالواحد ہے'' محمد عبدالواحد''، ایک ایسے صحابی ایک ایسے ولی اللہ ہیں کہ جن کا خاندان پوری کائنات میں سب سے زیادہ تقریباً سارے کا سارا وابستہ ہے رسول اللہ سے وارفتہ ہے اور محمد رسول اللہ سے وابستہ ہو کر محمد رسول اللہ کے ذریعہ ذات حق سبحانہ و تعالیٰ تک پہنچا ہے۔ نعرئہ تکبیر کے ساتھ اُن کا استقبال کیجیے! اَور میں اُن کو کہوں گا ،کچھ ہمیں کہیں؟ بسم اللہ ! ''اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم آج سے پچیس سال پہلے مکہ معظمہ میں ایک بزرگ سے ایک شعر سنا جو صبح سے میرے کانوں میں گونج رہا ہے، اُنہوں نے فرمایا تھا :