ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
ہے۔ اِس اجلاس میں صحابی قرار پانے کے بعد زید زمان نے تقریر کی اور کذاب یوسف کی تعریف اور عظمت میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیے تھے۔ زید زمان اِن دنوں کذاب یوسف کی رہائی کے سلسلہ میں سرگرم ہے اور عدالت میں ہر تاریخ پر موجود ہوتا ہے۔'' (ص:٤٢٧) الغرض کیا اِن کا یوسف کذاب کو بچانے، اُس کے مقدمہ کی پیروی، اُس کی حفاظت، اُس کو بیرون ملک فرار کرانے اور امریکی قونصل خانہ تک اَپروچ کرنے اور اِنسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کرنے وغیرہ مختلف حوالوں سے اُن کا نام نمایاں طور پر نہیں لیا گیا؟ اگر اُن کا اِس ملعون کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا تو یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا؟ کیا اُنہوں نے کبھی اُس سے اپنی براء ت کا اظہار کیا؟ یا کرسکتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔ اِسی طرح نبوت کے جھوٹے دعویدار یوسف کذاب کی کہانی پر مشتمل کتاب ''کذاب'' میں بھی بیس مقامات پر مختلف عنوانات اور خدمات کے ذیل میں بایں الفاظ اِن کا تذکرہ ملتا ہے، پڑھیے اور سر دُھنییے: (١) ''اس جلسے میں کذاب کا چیلا زید زمان جسے کذاب نے ''صحابی'' قرار دیا تھا، اسٹیج پر براجمان تھا۔''(ص:٢٤) (٢) ''کذاب کو کم اَز کم اپنے اِن دو ''صحابیوں'' عبدالواحد اَور زید زمان ہی کو اپنی صفائی میں عدالت میں لانا چاہیے تھا۔'' (ص:٢٥) (٣) ''اپنی تقریر کے دوران اپنے دو چیلوں عبدالواحد خان اور زید زمان کو ''صحابی'' کی حیثیت سے متعارف کروایا وہ دونوں اِس محفل میں موجود تھے۔''(ص:٥٠) (٤) ''سب سے پہلے وابستہ اَور وارفتہ ہونے والے سیّد زید زمان ہی تھے، آئیں سیّد زید زمان'' (ص:٥٢) (٥) ''کراچی سے عبدالواحد، محمد علی ابوبکر ، سیّد زید زمان، سروش، وسیم، امجد، رضوان، کاشف، عارف ، اَورنگزیب خان اَور شاہد نے شرکت کی۔'' (ص:٦٤) (٦) ''راولپنڈی کا خلیفہ زید زمان، پشاور کا خلیفہ سابق ایئر کموڈور اَورنگزیب تھا۔'' (ص:٩١) (٧) ''اِس دوران اُس کے خاص کارندے زید زمان جو راولپنڈی میں برنکس نامی ایک سیکورٹی کی فرم میں آفیسر ہے، نے کذاب یوسف کے گھر پر سیکورٹی کا عملہ تعینات کردیا۔ '' (ص:٩٤)