ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ پاکستان میں طالبان طرز کی خلافت قائم کی جائے، مذہبی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے یہی کہنا کافی تھا، رضوان طیب کے اِسلامک سینٹر کے پلیٹ فارم پر زید زمان سے ملاقات ہوئی، پھر یہ دونوں زید زمان اور رضوان طیب مسلم ایڈ کے لیے کام کرنے لگے اَور میں بھی اُن کے ساتھ کام کرنے لگا، مسلم ایڈ کا کارڈ آج بھی میرے پاس موجود ہے، میں اُن کے ساتھ فنڈز اَکٹھے کرتا تھا، ہم نے افغان جہاد کے حوالہ سے ایک مووی'' قصص الجہاد'' کے نام سے تیار کی تھی، زید زمان اُس کا ڈائریکٹر تھا، اُس سی ڈی کی سیل اَور فروخت کی ذمہ داری میری تھی۔ اِس کے بعد زید زمان کی ملاقات یوسف کذاب سے ہوئی اَور وہ اُس کو کراچی لے آیا۔ رضوان طیب، سہیل احمد اور عبدالواحد کراچی میں اُن کے شروع کے ساتھیوں میں سے تھے، اِن لوگوں نے خلافت کا آسرا دے کر کراچی سے ایک تحریک کا آغاز کیا اور اِسلامی جمعیت طلباء اَور جماعت ِاِسلامی کے لوگوں کو ٹارگٹ بنایا، ہر آدمی کو اُس کے رجحان کے حساب سے گھیرنے کی حکمت ِعملی وضع کی گئی، اگر کوئی جہاد سے متأثر تھا تو اُس کے حوالہ سے اور اگر کوئی تصوف یا کسی دُوسری فکر سے وابستہ تھا تو اُس لائن سے اُس کو قریب لانے کے لیے اُس فکر کے قصیدے پڑھے گئے، یوں کل کا مجاہد زید زمان ایک صوفی اور ذکر کی لائن کا آدمی بن کر اُبھرا اور اُس کو یوسف کذاب کا اِتنا قرب حاصل ہوا کہ وہ نعوذباللہ اُس کا صحابی اور خلیفہ اوّل قرار پایا۔ (3) یوسف کذاب کے مقرب خاص اَور زید حامد کے دوست رضوان طیب کے بھائی منصور طیب کا فرمانا ہے کہ: میں زید حامد کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب اُس کا یوسف علی سے تعلق نہیں تھا، زید حامد ٨٩،١٩٨٨ء کے انتخابات میں بہت سرگرم تھا، ١٩٨٩ء میں اُس نے ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا اَور اِس کے لیے ایک ویڈیو فلم بھی تیار کی، اُس نمائش کا اہتمام سوسائٹی کے علاقہ میں مختلف مقامات پرکیا گیا، اُس زمانہ میں یہ مختلف جہادی راہنمائوں کے ترجمان کی صورت میں نظر آتا تھا، ہم اُس کی شخصیت سے بہت متأثر تھے، اور یہ اپنے آپ کو ایک بہت بڑا جہادی راہنما سمجھتا تھا، اُس زمانہ میں اُس نے افغان جہاد کے حوالہ سے ایک ویڈیو فلم'' قصص الجہاد'' بھی تیار کی ،١٩٩٣ء میں جہاد افغان ختم ہوگیا۔ تو یہ وہ دور تھا کہ اُس نے تمام مجاہد راہنمائوں کو گالیاں دینا شروع کردیں۔ ٩٤،١٩٩٣ء میں زید حامد لاہور سے اپنے ساتھ یوسف کذاب کو لے آیا اور اُس کو سوسائٹی کے علاقہ کے تحریکی ساتھیوں سے متعارف کرایا اور کہا کہ یہ ایک بزرگ ہے جو صرف