ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
کی ڈگری حاصل کی، اِس کے علاوہ اُس نے پوسٹ گریجویشن، ایم ایس اَور پی ایچ ڈی وغیرہ نہیں کی اور نہ ہی وہ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہا ہے، لہٰذا اُسے ڈاکٹر یا پروفیسر وغیرہ کہنا اَور لکھنا غلط ہے، جس زمانہ میں وہ این ای ڈی میں داخل ہوا، ایک ماڈرن نوجوان تھا لیکن بہت جلد ہی اُس کا اِسلامی جمعیت طلباء کے ساتھ تعلق ہوگیا اور اِسلامی جمعیت طلباء کے سرگرم کارکنوں میں سے شمار ہونے لگا۔ زید حامد جمعیت کے دُوسرے کارکنوں کے مقابلہ میں نسبتاً لمبی ڈاڑھی، سر پر پخول پہنے، سبز اَفغان جیکٹ کلاشنکوف زیب تن کیے دکھائی دیتا تھا، زید زمان شروع سے غیر معمولی ذہین و ذکی تھا، اُن دنوں چونکہ جہادِ افغانستان کا دَور تھا، اِس لیے تحریکی ذہن کا یہ نوجوان بھی عملی طور پر جہاد ِافغانستان کے ساتھ منسلک ہوگیا اور بڑھتے بڑھتے اُس کا جہادِ افغانستان کے بڑے لوگوں جلال الدین حقانی، حکمت یار اور اَحمد شاہ مسعود سے تعلق ہوگیا اَور عملی جہاد اَور گوریلا جنگ کے تجربات کا حامل قرار پایا، اُردو اُس کی مادری اَور انگلش اُس کی تعلیمی زبان تھی جبکہ پشتو اَور فارسی اُس نے افغانستان میں رہ کر سیکھی تھی، اِس لیے وہ اُردو، انگلش، پشتو اور فارسی بے تکلف بولنے لگا۔ اِسی دوران اُس کو جلال الدین حقانی، حکمت یار اور اَحمد شاہ مسعود سے نہ صرف تقرب حاصل ہوگیا بلکہ حکمت یار اَور ربانی کے پاکستانی دَوروں کے موقع پر وہ اُن کا ترجمان ہوتا تھا، اِس طرح دُوسرے جہادی اور تحریکی راہنمائوں سے بھی اُس کے قریبی مراسم ہوگئے۔تعلیم سے فراغت کے بعد یہ برنکس نامی ایک سیکورٹی کمپنی کا منیجر بن کر ١٩٩٢ء میں کراچی سے راولپنڈی چلا گیا، پھر کچھ عرصہ بعد اُس نے برنکس کمپنی چھوڑکر براس ٹیکس کے نام سے اپنی کمپنی بنائی اور اِسی کے نام سے ویب سائٹ بھی ترتیب دی، آج کل اُس کی تمام سرگرمیاں اِسی کمپنی اور ویب سائٹ کی مرہونِ منت ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق زید حامد اِس وقت مکان نمبر 777، عمار شہید روڈ، چکلالہ اسکیم III، راولپنڈی میںر ہائش پذیر ہے، جبکہ اُس کے شناختی کارڈ کی کاپی کے اعتبار سے اُس کا پتہ یہ ہے: مکان نمبر 9-A اسٹریٹ 2، چکلالہ2، راولپنڈی۔ (2) جناب سعد موٹن صاحب بھی اِسلامی جمعیت طلباء کے سرگرم کا رکن تھے، اُن کا کہنا ہے کہ زید زمان سے میرا تعارف یوسف علی کے خاص مقرب رضوان طیب نے کرایا، یہ اُس زمانہ کی بات ہے جب افغان جہاد کے آخری دِن چل رہے تھے اَور طالبان کابل کو فتح کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے تھے، کراچی کے کچھ لوگ تیار ہوکر افغان جہاد میں حصہ لینے جارہے تھے، جب طالبان حکومت بنی تو کچھ