ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
ذکر کی بات کرتا ہے، اگر کوئی سوا لاکھ درود شریف کا وِرد کرے گا تو اُس کو نبی اکرم ۖ کی زیارت اَور دیدار ہوگا، میرے بڑے بھائی رضوان طیب یوسف علی سے منسلک ہوگئے اور اُن کے خاص مقربین میں شامل ہوگئے، اِس وجہ سے یوسف علی اَور زید حامد میرے گھر آتے تھے، زید زمان جس کا پہلے سے ہمارے گھر آنا جانا تھا یوسف علی کو ہمارے گھر لے آیا، اُس زمانہ میں اِسلامی جمعیت اور جماعت ِاِسلامی سے متأثر تین درجن سے زائد اَفراد اُس سے متأثر ہوئے، میرے بھائی تو اِس حد تک متأثر ہوئے کہ اُنہوں نے ہماری دُکان کا ایک حصہ بیچا اور یوسف کذاب کو ایک گاڑی خرید کر دی اور لاکھوں روپے نقد دیے، زید حامد یوسف کذاب کا مقرب ِاوّل تھا اِس لیے پیسوں کی وصولی وہ کرتا تھا، میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ زید زمان نے خود اپنی جیب سے ایک ہزار روپے بھی نہیں دیے ہوں گے، زید حامد نے مجھے یوسف کذاب کے نظریات پر مبنی پمفلٹ دیے اَور مختلف مساجد کے باہر تقسیم کرنے کو کہا، لہٰذا اُس کا یہ کہنا کہ میں کسی یوسف علی کو نہیں جانتا محض جھوٹ اور فریب ہے۔ (4) اِس سب سے قطع نظر ہم زید حامد سے پوچھنا چاہیں گے کہ اگر اُن کا یوسف کذاب سے کوئی تعلق نہیں تھا یا نہیں ہے تو وہ یہ بتلانا پسند فرمادیں گے کہ یوسف کذاب کے خلاف لکھی گئی کتابوں: ''کذاب'' تالیف: میاں غفاراور ''فتنہ یوسف کذاب'' تالیف: اَرشد قریشی میں اُن کا یوسف علی کذاب کے مقدمہ میں بار بار تذکرہ کیوں آیا ہے؟ کیا وہ اِس کا اِنکار کرسکتے ہیں کہ ''فتنہ یوسف کذاب'' کے بیس مقامات پر بایں الفاظ اُن کا تذکرہ موجود ہے، ملاحظہ ہو : (١) ''ورلڈ اسمبلی کے اجلاس میں یوسف علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سو سے زائد صحابہ کرام محفل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔اُس نے کراچی کے ایک صاحب زید زمان کو مجاہد کا لقب دیا۔'' (ص:٣) (٢) ''ملعون نے اپنے انتہائی اہم مقربین کو لاہور ڈیفنس کینٹ میں واقع اپنی پُرآسائش قیام گاہ میں طلب کرلیا جن میں راولپنڈی سے زید زمان کے علاوہ کراچی سے سہیل نامی ایک شخص بھی شامل ہے۔'' (ص:٤٢) (٣) ''یوسف علی نے مذکورہ تردید جاری کرنے سے قبل سہیل اَور زید زمان کے ذریعہ ملک بھر کے تمام مریدوں سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔''(ص:٤٢)