ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
دل سے رُجوع کا اعلان کردُوں گا، تاہم جب تک وہ یوسف علی کذاب کے عقائد و نظریات سے منسلک ہے یا اُس سے براء ت کا اعلان نہیں کرتا، وہ حضورۖکا باغی اَور غدار ہے اور حضور ۖ کا باغی و غدار اَپنے اَندر چاہے کتنا ہی خوبیاں اور کمالات کیوں نہ رکھتا ہو، وہ ہمارے اَور کسی سچے مسلمان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، اِس لیے ناممکن ہے کہ کوئی مسلمان اُس کو اپنا یا مسلمانوں کا نمائندہ اَور ترجمان باور کرے۔ الغرض ہماری معلومات اور تحقیق کے اعتبار سے زید حامد یوسف کذاب کا خلیفۂ اوّل، اُس کا جانشین، اُس کا صحابی، اُس کے عقائد و نظریات کا داعی، علمبردار اور اُس کی فکر و فلسفہ کا پرچارک ہے اَور وہ آج بھی اُن ہی خطوط پر گامزن ہے جن پر مدعی نبوت یوسف کذاب اِسے چھوڑ کرگیا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ یوسف کذاب کی زندگی میں وہ کھل کر اُس کا حامی تھا، اَب جب اُس نے دیکھ لیا کہ حالات سازگار نہیں ہیں تو اُس نے باطنیوں کی طرح اپنے عزائم و منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنی تحریک کو زیرِ زمین کردیا ہے اَور اُس نے اپنی حکمت ِعملی کسی قدر تبدیل کرلی ہے۔لہٰذا زید حامد کا یہ کہنا کہ میں کسی یوسف کذاب کو نہیں جانتا یا اُس سے میرا کوئی تعلق نہیں ''عذر گناہ بدتراَز گناہ'' کے مترادف ہے، ہاں اگر وہ یہ کہتا کہ میرا اُس سے تعلق تھا مگر اَب میں نے اُس کے عقائد و نظریات سے توبہ کرلی ہے پھر اپنی توبہ کے ثبوت کے طور پر توبہ نامہ اَور توبہ کے گواہ پیش کردیتا تو کسی کو کیا حق پہنچ سکتا تھا کہ وہ کسی توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول نہ کرے؟ بہرحال ذیل میں ہم زید حامد کا تعارف، اُس کے یوسف کذاب سے تعلق، اُس کی صحابیت، اُس کی خلافت، اُس کی زندگی کے اِنقلابات اور قلا بازیوں کی مختصر رُوئیداد عرض کرنا چاہیں گے، لیجیے پڑھیے اور سر دُھنیے : (1) زید حامد کے زمانہ طالب علمی کے اَور شروع کے دوستوں کا کہنا ہے کہ زید حامد کا اَصل نام ''زید زمان حامد'' ہے، اُس کا شناختی کارڈ نمبریہ ہے: 3740510713477، اُس کا باپ فوج کا ریٹائرڈ کرنل تھا، اُس کا نام ''زمان حامد'' تھا، ١٣۔بی بلاک ٦، پی ای سی ایچ سوسائٹی کراچی کے علاقہ نرسری میں چنیسر ہالٹ اور شاہراہ فیصل کے بیچ میں واقع کے ایف سی والی گلی میں پیچھے اُس کی رہائش تھی، ١٩٨٠ء میں حبیب پبلک سکول سے میٹرک کیا، سکول کی تعلیم کی تکمیل کے بعد اُس نے کالج میں داخلہ لیا، کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اُس نے ١٩٨٣ء میں این ای ڈی یونیورسٹی میں داخلہ لیا، این ای ڈی سے اُس نے بی اے