ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2008 |
اكستان |
|
تووہ اپنی کتاب میں ناقص درج کریں اورتلمیذسے موصول بیان کریں، محل ِتعجب ہے۔ 28۔ عبدبن حمید ١٨٥ء میں پیداہوئے۔ عَلٰی رَأْسِ الْمِأَتَیْنِ اُن کی عمر١٤سال ہے۔ اِس سے یہ معلوم ہورہاہے کہ اِنہوں نے عبدالرزاق سے نابیناہونے کے بعدسُناہے۔ 29۔ یہ ساری گفتگوروایت ِتزوج پرہے لَعَبْ بِالْبَنَاتْ پرنہیں ہے۔ لَعَبْ بِالْبَنَاتْ کی تمام روایات ہشام بن عروہ سے منقول ہیں زہری سے کوئی روایت منقول نہیں ہے۔ 30۔ ہشام سیلَعَبْ بِالْبَنَاتْکے ایک راوی معمربھی ہیں اور آگے اُن سے عبدالرزاق ہیں۔ عبدالرزاق نے لَعَبْ بِالْبَنَاتْ سے لعب کا مفہوم لے کر روایت ِ تزوج میں شامل کر دیا اور یہی ہمارادعویٰ ہے کہ یہ اِدراج عبدالرزاق کاہے۔ حضرت عائشہ سے یہ جملہ منقول نہیں ہے اِس لیے غیرواقعی اورقابل ِردہے۔ 31 ۔ آپ نے تحریرفرمایاہے کہ عبدالرزاق کی '' لُعَبُہَا مَعَہَا '' والی روایت دُوسری سندسے موجودہے میری تحقیق کے مطابق یہ روایت کسی دُوسری سندسے موجودنہیں ہے۔ اگرہے توبراہِ کرم حوالہ تحریر فرمایئے۔ 32 ۔ اگر قریبی مضمون کی روایات موجودہیں تواُس سے بناء کے وقت گڑیوں کاساتھ ہوناکیسے ثابت ہوگیا۔ کسی روایت میں بھی یہ نہیں ہے کہ بناء کے وقت بنات ساتھ تھیں یعنی لعب۔ 33۔ آپ نے بحث کوپھیلادیاہے۔ اگرواقعی حضرت عائشہ زفاف کے وقت اِتنی بچی تھیں تویہ فرمایئے وہ اُس وقت بالغہ تھیں یانابالغہ تھیں کیونکہ بناء کی روایات میں کوئی تصریح نہیں ملتی بلکہ روایات کارُجحان نابالغی کی طرف ہے.............. ''وہ جھو لے میں تھیں ماں کھینچ لائیں سانس چڑھ گیا۔ ماں نے منہ ہاتھ دھویاوغیرہ۔'' اِسی لیے اَربابِ ظواہرکہتے ہیں کہ ٩ سال کی عمرمیں بناء کرلینی چاہیے چاہے لڑکی بالغہ ہویانابالغہ یہی سنت ہے۔ یابالغہ تھیں؟یہ بلوغت کی قیدکہاں سے لی۔ روایات میں تو ہے نہیں۔اوربقول آپ کے ہم معنی روایات بچپن کو ہی ظاہر کررہی ہیں۔