Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق ربیع الثانی 1434ھ

Œہ رسالہ

8 - 18
غار والوں کا قصہ ۔۔۔ چند تربیتی پہلو
مفتی محمد جمال الدین قاسمی

واقعہ مذکورہ میں بھی تینوں حضرات نے اللہ سے لولگائی اور اسی سے فریاد کی تو بلا کسی ظاہری سبب کے پتھر آہستہ آہستہ سرکتا رہا، حتی کہ پورا پتھر ہٹ گیا اور آسانی کے ساتھ تینوں حضرات غار سے باہر آگئے۔

٭...مصیبت وپریشانی کے ازالہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے دربار میں نیک اعمال کو وسیلہ بنا کر دعا کی جاسکتی ہے، ایک مرتبہ آپ صلى الله عليه وسلمکے زمانے میں سورج گرہن ہوگیا تھا تو آپ صلى الله عليه وسلمنے بڑی لمبی نماز پڑھائی اور دعا میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں عرض کرتے رہے: اے اللہ! آپ نے تو مجھ سے یہ وعدہ فرمایا تھاکہ جب تک ہم (حضورصلى الله عليه وسلم) امت میں رہیں گے تو ان پرعذاب نہیں آئے گااور آپ نے یہ بھی وعدہ فرمایا تھا کہ جب تک لوگ استغفار کرتے رہیں گے تو ان پر عذاب نہیں آئے گا، اے بار الہا! ہم سب استغفار کرتے ہیں،ابھی آپ صلى الله عليه وسلمنماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ سورج گہن ختم ہوگیا اور اس کی روشنی زمین پر پھیل گئی۔(ابوداوٴد،حدیث نمبر: 1194)

ان تین اصحاب غار نے بھی نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی پریشانی کا ازالہ فرمادیا۔

٭...شریعت میں جو چیزیں ممنوع ہیں، خواہ وہ گناہ کبیرہ ہوں یا گناہ صغیرہ، بہر حال ان سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے، جو شخص محض اللہ کے خوف سے خود کو زنا اور دیگر محرمات سے بچائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آلام ومصائب سے نکلنے کی غیب سے صورت پیدا فرمائے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَن یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَل لَّہُ مَخْرَجاً﴾․ (الطلاق :2)
اورجو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ( مضرتوں سے) نجات کی شکل نکال دیتا ہے۔“

غار والوں نے بھی چوں کہ محض اللہ کے خوف سے مذکورہ اعمال کو انجام دیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے چٹان کو غار کے منہ سے ہٹا کر تینوں کے لیے وہاں سے نکلنے کی صورت پیدا فرمادی۔

٭...اعمال اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول اور وزنی، اخلاص کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور جو اعمال ریا، دکھلاوے اور نفسانی جذبات کے تحت انجام دیے جائیں، وہ اگر چہ فی نفسہ بڑے قیمتی ہوں ؛لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی حیثیت پرِکاہ کے برابر بھی نہیں ہوتی، انفاق فی سبیل اللہ، میدان جہاد میں لڑتے ہوئے اپنی جان کی بازی لگادینا، قرآن پاک کا علم اور اس کی تلاوت کی توفیق کا ملنا کتنا اونچا اور قابل قدر عمل ہے؛، لیکن اخلاص سے انجام نہ دیے جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں،ریا رکاری سے ان بڑے اعمال کو انجام دینا جہنم میں جانے کا سبب ہوجاتا ہے، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ان تینوں حضرات کو گھسیٹ کرجہنم میں پھینک دیاجائے گا۔(مسلم حدیث نمبر: 1905)

لیکن غار والوں نے مذکورہ اعمال کو اخلاص کے تحت انجام دیا تھا، اسی لیے انہوں نے خاص طور پر دعاوٴں میں ان الفاظ کا ذکر کیاتھا:
”أللہم إن کنت فعلت ابتغاء وجہک، فافرج عنا ما نحن فیہ“․ (بخاری حدیث نمبر: 2272)
”اے اللہ! اگر میں نے یہ عمل محض تیری خوش نودی کے واسطے کیا تھا تو اس موجودہ پریشانی سے نجات دے دے۔“

اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو قبول فرمایا اور یہ تینوں حضرات جو موت کے منہ میں چلے گئے تھے، پھراللہ تعالیٰ نے ان کونئی زندگی عطا فرمائی۔

٭... اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنے خاص بندوں کے ہاتھوں ایسی باتیں ظاہر فرمادیتے ہیں جن کا صدور اللہ تعالیٰ کے عام ضابطے کے خلاف ہوتا ہے، مگر ان کی فضیلت وبزرگی اور اپنے یہاں مقبولیت کو واضح کرنے کے لیے ایسا کردیا کرتے ہیں، جیسا کہ حضرت جریج  کی براء ت اور ان کی عفت وپاک دامنی کو ظاہر کرنے کے لیے گہوارے میں پرورش پارہے بچہ میں قوت گویائی عطافرمائی۔(بخاری حدیث نمبر:3436) اور حضرت عاصم بن ثابت رضي الله عنه جوسریہ بئر معونہ میں شہید ہوئے تھے اور کافروں نے آ پ رضي الله عنه کے جسم کی بے حرمتی کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کو آپ رضي الله عنه کے جسم پر مامور کردیا اور وہ لوگ لاکھ کوشش کے باوجود آپ رضي الله عنه کے جسم تک نہ پہونچ سکے، بالآخر انہوں نے یہ طے کیا کہ شام کے وقت جب اندھیرے کی وجہ سے مکھیاں ان کے جسم سے علیحدہ ہوجائیں گی تب ان کے جسم کو اپنے قبضہ میں لے لیں گے،لیکن اندھیرا چھانے سے پہلے ہی ایسے زور کی بارش ہوئی اور پھر پانی کے بہاوٴ میں ان کا جسم کہاں بہہ کر چلا گیا؟ کافروں کو اس کا پتہ بھی نہ چل سکا۔(بخاری مع فتح الباری حدیث نمبر: 3045)

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان تینوں غاروالوں کے نیک اعمال اور دعاوٴں کی برکت سے، بغیر کسی آلہ اور ظاہری اسباب کے چٹان کو غار کے منہ سے ہٹا دیاا ور اپنی قدرت کا اظہار فرما کر ان کی مقبولیت اور عام لوگوں پر ان کی برتری ظاہر فرمادی۔

٭...مزردو کی مزدوری ایک قابل ادا فریضہ ہے، ادائیگی میں تاخیر یا ٹال مٹول کرنا درست نہیں ہے، آپ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے کہ مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی ادا کردیا کرو۔(ابن ماجہ حدیث نمبر: 2445)

واقعہٴ مذکور میں غور کیا جائے کہ مزدور جو نہی اپنی مزدوری لینے کے واسطے آیا، آجر نے بغیر کسی تاخیر کے اس کی مزدوری ادا کردی اور ٹال مٹول سے کام نہیں لیا۔

٭...مزدوروں، بلکہ عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا ایک بہترین عمل ہے، اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی بڑی قدرو قیمت ہے، نبی کریم صلى الله عليه وسلم بعض صحابہ سے مسلمانوں کے ساتھ نصح وخیرخواہی کرنے پر بھی بیعت لیا کرتے تھے۔ (بخاری حدیث نمبر: 57) ایک حدیث میں آپ صلى الله عليه وسلمنے دین کا مدار نصح وخیر خواہی کو قرار دیا ہے۔ (مسلم حدیث نمبر: 55)

آجر نے واقعہ مذکور میں مزدور کے ساتھ غیر معمولی نصح وخیر خواہی کا ثبوت دیا کہ اس کی مزدوری میں اضافہ اور بڑھوتری کی، حتی کہ ایک معمولی سی رقم بے شمار مال کی صورت میں تبدیل ہوگئی اور دل پر غبار لائے بغیر سارا مال مزدور کے حوالے کردیا، یہی تو وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اس قربانی کو قبول فرمایا اور غار سے نکلنے کا راستہ فراہم کرکے ان کو ایک نئی زندگی عطا فرمائی۔

٭... مزدوروں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے ساتھ خیر خواہی کا برتاوٴ کرنے سے اللہ تعالیٰ پریشانیوں سے نجات دیا کرتے ہیں، جیسا کہ واقعہ مذکور سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے ،یہاں آجر کے لیے یہ گنجائش بھی تھی کہ اس کی جو مقررہ مزدوری ایک درہم یا بعض روایت کے مطابق نصف درہم تھی، صرف وہی واپس کردی جاتی، لیکن آجرنے اپنے کمال امانت ودیانت اور ثقاہت وتقوی کا ثبوت دیا کہ اس کی رقم سے مال میں جتنا اضافہ ہوا تھا سب اس کے حوالے کردیا اور اپنی محنت کے معاوضہ کے طور پر بھی کچھ نہ رکھا اور وہ مال اس قدر زیادہ تھا کہ خود مزدور کے تصور سے بالا تھا، اسی لیے تو اس نے اس سارے مال کو دیکھ کر عرض کیا: ”أتسخر بی“․ (بخاری حدیث نمبر: 2272)”آپ مجھ سے مذاق کررہے ہیں؟“

اور جب آجر کے صورت حال واضح کرنے کے بعد اسے اطمینان ہوگیا کہ واقعةً یہ سارا مال میرا ہی ہے توسارا مال لے لیا اور آجر کی پیشانی پر ہلکی سی شکن بھی نہیں آئی، اسی خیر خواہی اور امانت نے اس کو اتنی بڑی پریشانی سے نجات دی۔

٭... والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے ساتھ عزت وتکریم کا معاملہ اللہ کے یہاں بڑااونچا عمل ہے، اگر اس کی انجام دہی میں کلفت وپریشانی بھی ہوتو اسے بخوشی برداشت کرنا چاہیے، اس کی وجہ سے دنیوی آلام ومصائب پر قابو پانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔

واقعہ مذکور میں دودھ کا پیالہ ہاتھوں میں لے کر رات بھر والدین کو پہلے پلانے کے لیے کھڑے رہنا اور اپنے بچوں کو بھوک کی وجہ سے رونے کے باوجود انہیں دینے سے انکار کردینا ایک بہت بڑا مجاہدہ ہے، لیکن وہ بزرگ اس میں سو فی صد کام یاب نکلے۔

٭... زنا سے بچنا اور اس پر قدرت کے باوجود اپنی عفت وعصمت کو داغدار نہ ہونے دینا ایک محمود وپسندیدہ عمل ہے، ایسا شخص اللہ کی نگاہ میں بڑے اعزاز واکرام کا مستحق ہوتاہے، حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه حضورصلى الله عليه وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا تو سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا، ان میں سے ایک وہ شخص بھی ہوگا جس کو کوئی صاحب حسن وجمال خاتون برائی کے لیے بلائے اور وہ اسے بر ملاکہہ دے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا خوف دامن گیر ہے، اس لیے میں تم سے برائی نہیں کرسکتا ۔(بخاری حدیث نمبر: 1423)

مذکورہ واقعہ میں بھی اس شخص کو اس کی چچازاد بہن نے اپنے نفس پر قدرت دے دی تھی، تنہائی بھی میسر آگئی تھی، لیکن محض خوف خداوندی سے وہ زنا سے باز رہا، یہ اس کے کمال عفت وپاک دامنی کی بات تھی، ورنہ تو نفس کے سامنے انسان ایک بچہ بن جاتا ہے اور اتنا بے قابو ہوجاتا ہے کہ وہ ہرطرح کے نتائج سے بے خبر ہوجاتا ہے، مگراس نے اپنے نفس کو قابومیں رکھااور اللہ کی حرام کردہ چیز کا ارتکاب نہیں کیا، یہ عمل اللہ کے دربار میں اتنا مقبول ہوا کہ ایک بڑی پریشانی سے اسے نجات مل گئی۔

٭... بشری تقاضوں کی وجہ سے انسان خواہ کتنے بڑے گناہ کا ارادہ کر بیٹھے اور اس کے اسباب بھی مہیا کرلے اور اب صرف چند لمحوں میں اس کا ارتکاب ہونے ہی والا ہو کہ عین اس وقت میں خدا کا خوف غالب آجائے اور اس کے نتیجے میں وہ گناہ کرنے سے باز آجائے تو اللہ تعالیٰ نہ صرف یہ کہ اس کے ارادہ اور نیت پر گرفت نہیں فرمائے گا؛ بلکہ اس کے مقدمات، جو گناہ صغیرہ کے درجے میں ہیں، وہ بھی معاف فرمادے گا اور اجر وثواب سے نوازے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ﴾․ (الرحمن : 46)
”اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے (ہروقت) ڈرتا رہتا ہے، اس کے لیے ( جنت میں) دو باغ ہوں گے۔“

واقعہ بالا میں عین وقت پر ان صاحب نے زنانہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جب کہ زنا سے پہلے کے سارے مقدمات طے کر چکے تھے، حسب خواہش روپے بھی دے گئے تھے، تنہائی بھی ہوگئی تھی، اب اس فعل کے ارتکاب میں صرف چند لمحات ہی رہ گئے تھے،لیکن عین وقت پر وہ خوف خداوندی سے باز رہے تو نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو معاف کردیا ؛بلکہ ان کو یہ انعام بھی دیا کہ موت کے غار سے نکال دیا اور ایک نئی زندگی عطا فرمائی۔

٭...امانت کی ادائیگی اور معاہدہ کی پاسداری کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ مزدور کی جو اجرت تھی اور جسے وہ ناراضگی کی وجہ سے لیے بغیر چلا گیا تھا، مگر جب وہ ایک عرصہ کے بعد واپس آیا اور اپنی اجرت کا مطالبہ کیا تو آجر نے اس کی ادائیگی میں پس وپیش نہیں کیا اور اس کی امانت ادا کردی اور کیے ہوئے معاہدہ کو پوری طرح نبھایا، معاہدے کو پورا نہ کرنا اور اس کی خلاف ورزی کرنا منافقین کا شیوہ ہوتا ہے۔ (بخاری حدیث نمبر: 33) ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس جیسے گھناوٴنے فعل کا ارتکاب کرے ۔

٭... اللہ تعالیٰ نے تقوی پر آسانی پیدا کرنے (الطلاق :2) اور مشکل حالات میں دست گیری فرمانے کا وعدہ کیا ہے (الطلاق:4) غار والے حضرات نے جب تقوی اختیار کیا ،اپنے آپ کو گناہوں سے بچایا اور اللہ کی خوش نودی کو سامنے رکھا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنا وعدہ پورا فرمایا اور غار سے نکال کر ایک طرح کی نئی زندگی گذارنے کا موقع فراہم کیا۔

٭... واقعہٴ مذکور سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اظہار ہوتا ہے کہ اس نے محض اپنی قدرت سے پہاڑ کے ایک چٹان سے غار کے منہ کو بند کردیا اور باہر کی دنیا سے تینوں حضرات کا رابطہ ختم کردیااور پھر اس چٹان کو محض اپنی قدرت سے بغیر آلات اور ظاہری اسباب کے ہٹادیا اور وہ حضرات صحیح سالم باہر نکل آئے، اللہ تعالیٰ کسی کام کے انجام دینے میں ظاہری اسباب کا محتاج نہیں ہے، وہ اسباب کے بغیر جو چاہے کرسکتا ہے، وہ ساری چیزوں پر قادر (البقرہ: 20) اور فعال لما یرید ہے۔ (البروج: 16)

٭... اللہ تعالیٰ سب کی دعاوٴں کو سنتا اور ان کی حاجتوں کو پورا فرماتا ہے، وہ بندوں سے ان کی دعاوٴں کے قبول کرنے کا وعدہ بھی کرتا ہے، (غافر: 60) اس لیے ہر حالت میں اللہ سے دعائیں کرتے رہنا چاہیے، ان تینوں حضرات نے جب دعائیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو موت سے بچا لیا۔ٍٍ

٭... اصل معصیت سے اگر انسان باز آجائے تو اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہ کے مقدمات اور ذرائع پر مرتب ہونے ولے گناہ کو بخش دیتا ہے، جیسا کہ زنا سے بچنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کے سارے ذرائع کو معاف فرمادیا، اگر یہاں کسی کو یہ شبہ ہو کہ یہ تو امم سابقہ کی بات ہے اور ان میں ذرائع پر گرفت ہوتی ہی نہیں تھی، اس لیے یہ استدلال محل غور ہے، تو کہا جاسکتا ہے کہ اس سلسلے میں مستقل ایک نص ہے، قرآن پاک میں اس اصل کو بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِن تَجْتَنِبُواْ کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَنُدْخِلْکُم مُّدْخَلاً کَرِیْما﴾․ (النساء : 31)
”جن کاموں سے تم کو منع کیا جاتا ہے ان میں جو بھاری بھاری کام ہیں اگر تم ان سے بچتے رہو تو ہم تمہاری خفیف برائیاں تم سے دور فرمادیں گے اور ہم تم کو ایک معزز جگہ میں داخل کردیں گے۔“

علامہ نووی لکھتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی اصل گناہ سے خود کو بچا لے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذرائع پر مرتب ہونے والے گناہ کو معاف فرمادے گا اور اس کی باز پرس نہیں کرے گا۔ (شرح النووی علی مسلم 206/16)

٭...واقعہ بالا سے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اکرام، عفت وپاک دامنی کی ضرورت اور انسان خصوصاً مزدوروں کے ساتھ نصح وخیر خواہی کی اہمیت معلوم ہوتی ہے، یہ تینوں صفات الگ الگ انسانوں میں تھے تو مجموعی طور پر یہ تینوں صفات پریشانی سے نجات کا ذریعہ بنے، ایک انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ یہ تینوں صفات اپنے اندر پیدا کرے، تاکہ ہر پریشانی میں ان صفات کے واسطے سے دعا کرسکے اور اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے پریشانی کا ازالہ کردیا کرے۔

٭...اگر کوئی انسان دوسرے کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرے اور اس میں مالک کا فائدہ ہو توجائز ہے، مذکورہ واقعہ میں مزدور کا حق ایک روایت کے مطابق نصف درہم اور دوسری روایت کے مطابق ایک درہم تھا، لیکن آجر نے اسی کو ترقی دی، غلہ خریدا، اسے بویا، پھر بکری خریدی، گائے بیل خریدے اور اس طرح اس کے مال کو ترقی دیتا رہا، حتی کہ ایک معتدبہ مال اکٹھا ہوگیا اور مزدوری اور موجودہ مال میں کوئی تناسب ہی نہیں رہا، ان سارے تصرفات کے باوجود اس کا عمل لائق تحسین شمار کیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فضولی کا تصرف جائز ہے، بشر طیکہ بعد میں مالک کی اجازت ورضامندی حاصل ہوجائے۔

٭... واقعہ بالا میں انسان کے ایک کمزور پہلو کی نشان دہی کی گئی ہے، لیکن اس کو پیش کرنے کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس کے الفاظ نہایت پاکیزہ اور فصیح ہیں، اخلاقی معیار سے گرے ہوئے عمل کو بیان کرنے کے لیے بھی اس میں نہایت بلیغ اور موٴثر جملہ استعمال کیا گیا ہے، سلسلہ واقعہ میں یہ مفہوم آیا ہے کہ اللہ کے واسطے میرے ساتھ برائی نہ کرو، تو وہاں یہ جملہ استعمال ہوا ہے: ”اتق اللہ ولا تفض الخاتم إلا بحقہ“․ (بخاری حدیث نمبر: 2282)
ترجمہ:”اللہ سے ڈرو اور مہر کو نا حق نہ توڑو“۔

دیکھیے یہاں مفہوم کی وضاحت کے ساتھ پاکیزگی کی صفت کیسے حسین انداز میں نمایاں ہے، یہ ہمارے ادباء کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے، آج قصہ نگاری کو ایسے افکار ورجحانات سے روشناس کرایا جارہا ہے جن کی بنیاد جنسی بے راہ روی اور دیگر غیر صحت مندانہ عناصر پر ہے اور جن چیزوں کو سیاست وقانون کے ذریعہ لانا مشکل تھا ان کو ادب کے چور دروازہ سے داخل کیا جارہا ہے، آج کل قصہ نویسی اور افسانہ نگاری میں تشبیہات واستعارات کی آڑ میں عموماً بنت حوا کے خدوخال کو کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ قاری میں جنسی ہیجان پیدا ہوجاتا ہے اورپھر اس کی جذباتیت اور فکری بے سمتی کو ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے کہ آخری مرحلہ میں اخلاقیات کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔

ایسے حالات میں ہمارے اسلام پسند ادباء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قصہ نویسی کے ذریعہ معاشرے میں تعمیری رجحانات کو فروغ دیں اور اعلی قدروں کو پروان چڑھائیں، مگر یہ اس وقت ہو گا جب کہ ان کی معلومات میں وسعت، استدلال میں پختگی اور پیرایہٴ بیان میں دل کشی ہو، اخلاص کے ساتھ اصلاحِ معاشرہ کی دل میں تڑپ ہو اور ذہن میں خیر وشر، معروف ومنکراور جزا وسزا کا واضح تصور ہو، خود پرستی، خدا بیزاری، نسل پرستی، وطن پرستی، اخلاقی قدروں کی پامالی، نفرت وانتقام، طبقاتی کشمکش، حیوانی جذبات، جنسی بے راہ روی، فخر ومباہات، بد اخلاقی کے محرکات اور یاس وقنوطیت سے مکمل طور پر بچنے کی کوشش کی جائے، قصہ نگاری کے پیچھے سفلی جذبات کی تسکین اور ذہنی ودماغی تعیش کا سامان فراہم نہ کیا جائے ،بے مقصد تفریح طبع کے لیے قصہ نگاری جہاں اپنی خداداد صلاحیتوں کی پامالی اور قوت بیان وقلم کی ناقدری ہے، وہیں تہذیب وتمدن اور ملک ومعاشرہ کے لیے سم قاتل ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلامی حدود میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور فن قصہ نگاری کو انسانیت کی تعمیر اور صالح معاشرہ کی تشکیل کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور اصحاب غار کے واقعہ سے نکلنے والے تربیتی اور سبق آموز پہلو کو اپنی زندگی میں داخل کرنے میں مدد فرمائے ۔ آمین ثم آمین !
Flag Counter