کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
بہو پر ساس، سسر کے حقوق
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آیا بہو پر اپنے ساس اور سسر کے کیا حقوق شرعاً لازم ہیں اور وہ کون کون سے ہیں؟
درآنحالیکہ سسر نے اپنی بہو کو ہرسہولت میسر کی ہے ، مثلاً رہائش نان ونفقہ اور دیگر ضرورت وغیرہ… کیا ساس اور سسر ان والدین کے قائم مقام ہیں یانہیں؟ اخلاق او رمروت ودیانت داری کا تقاضہ کیا ہے کہ وہ اپنے ساس وسسر کی خدمت کرے یا نہ کرے ، اگر کرے تو وہ کیا اور کتنے حقوق ہیں؟
براہ کرم تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب… جاننا چاہیے کہ ساس اور سسر بلاشبہ بہو کے والدین کے قائم مقام ہیں ، اخلاق او رمروّت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ بہو اپنے ساس اور سسر کی خدمت میں حتی المقدور سعی کرے اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت جانے، خصوصاً جب کہ سسر کی طرف سے اس کو ہر طرح کی سہولت میسر ہے ۔ لیکن بہو پر ساس اور سسر کی خدمت شرعاً لازم نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بیوی کے لیے شوہر سے ایسی رہائش گاہ کا مطالبہ کرنا جائز ہے جہاں شوہر کے کسی رشتہ دار مثلاً: ماں ، باپ، بہن، بھائی وغیرہ کا دخل نہ ہو۔ (اگرچہ وہ گھر کا ایک علیحدہ حصہ یا کمرہ ہی کیوں نہ ہو ، جس میں تمام ضروریاتِ زندگی، مثلاً باورچی خانہ اور بیت الخلاء وغیرہ موجود ہیں) تاکہ وہ اطمینان کے ساتھ حقوقِ زوجیت نبھا سکے۔ نیز اسلام نے بیوی کے نان نفقہ کی ذمے داری شوہر پر عائد کی ہے ، نہ کہ ساس اور سسر پر، تاہم اگر ساس اور سسر اپنی بہو پر خرچ کرتے ہیں تو یہ ان کا بہو پر احسان ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے : ﴿ھل جزاء الإحسان إلاَّ الإحسان﴾ احسان کا بدلہ بھی احسان سے دیا جاتا ہے۔ لہٰذا حسن معاشرت، اخلاق اور مروّت کا تقاضہ وہی ہے جو اوپر ذکر کر دیا گیا کہ بہو حتی المقدور ساس اور سسر کی خدمت کرے اور ان کے راحت وآرام کا مکمل خیال رکھے تاکہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ اگر ساس، سسر بہو کو اپنی بیٹی اور بہو ساس ، سسر کو والدین کی طرح سمجھے تو کسی گھرانے کے جنت نظیر بننے میں کوئی شک نہیں۔
زکوٰة سے متعلق چند متفرق سوالات
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام او رمفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ!
1...زکوٰة کن حضرات پر فرض ہے ؟کتنے مال پر زکوٰة دینا فرض ہے؟
2...اگر شعیب کی تنخواہ او ربیوی کا سونا ملا کر زکوٰة کا نصاب پہنچے تو کیا حکم ہے ؟
3...اور اگر مثلاً شعیب کی اپنی تنخواہ زکوٰة کے نصاب تک برابر ہے اور اس کے پاس گاڑی بھی موجود ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا؟
4...زکوٰة صرف ایک فرد پر فرض ہے یا مثلاً شعیب او راس کے گھر کے تمام افراد کی تنخواہیں ملا کر زکوٰة کے نصاب تک پہنچے تو کیا حکم ہے ؟
5...شعیب نے اپنا بینک میں اکاؤنٹ کھولا ہے او راس میں پیسے موجود ہوتے ہیں او رہر ماہ وہ خرچ بھی کرتا ہے او رجمع بھی تو اس صورت میں شعیب زکوٰة دے گا یا نہیں؟
6...شعیب اگر زکوٰة کا ادا کرنے والا ہو تو وہ زکوٰة سب سے پہلے کس کو دے گا یعنی کہ مستحق زکوٰة کون لوگ ہیں؟
جواب…1... جو شخص عاقل بالغ مسلمان آزاد ہو او را س کے پاس اتنا مال ہو ، جو ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے اورحاجت اصلیہ سے زائد ہو ، قرض سے فارغ ہو اور اس پر سال بھی گذر چکا ہو ، تو ایسے شخص پر زکوٰة فرض ہے ۔
4،1 زکوٰ ةمیں ہر شخص کے ذاتی مال کو دیکھا جائے گا، اگر ہر ایک کے پاس اتنا سرمایہ ہے ، جو نصاب زکوة کو پہنچ جائے ، تو زکوٰة واجب ہو گی ورنہ نہیں ، میاں بیوی کے مال کو ملایا نہیں جائے گا۔
3...اگر تنخواہ کی رقم سے اخراجات منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو سال پورا ہونے کے بعد اس پر زکوٰة واجب ہو گی ۔نیز اگر گاڑی اپنی ضرورت کے لیے خریدی ہے، تو اس کو نصاب میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
5...وجوب زکوٰة کے لیے مالک نصاب ہونا ضروری ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر شعیب سال کے شروع اور آخر میں مالک نصاب ہو ، تو اس پر زکوٰة فرض ہو گی اور سال کے آخر میں جتنی بھی رقم کا مالک ہو گا، اسی حساب سے زکوٰة ادا کرے گا۔
6...جس مسلمان آدمی کے پاس اس کی ضرورت اصلیہ سے زائد سامان نصاب کے برابر سونا، چاندی، مال تجارت اورنقدی نہ ہو اس کو زکوٰة دینا جائز ہے تاہم غریب رشتہ دار اور دین دار لوگوں کو دینا افضل ہے۔
بیوہ عورت کا پرائز بانڈ خریدنا یا سیونگ اکاؤنٹ کھولنا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں:” میں ایک بیوہ عورت ہوں اور 2 بیٹیوں کی ماں ہوں، ہماری رہائش کرائے کے گھر میں ہے او را سکے ساتھ ساتھ بجلی گیس کے بل او رگھر کے اخراجات اور دونوں بچیوں کی اسکول فیس ، ان تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے میرا کوئی بھی ذریعہ معاش نہیں ہے ۔ اس لیے میرے ذمے قرض بھی جمع ہو گیا ہے اورمیں قرض ادا کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتی ہوں اس کے ساتھ ساتھ میں نے بطور مضاربت لوگوں کے پاس بھی پیسے رکھوائے تھے لیکن کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا، بعض نے کچھ ماہ بعد پورے پیسے اور بعضوں نے نقصان کے ساتھ پیسے واپس کر دیے ۔ میں خود بھی نوکری کے قابل نہیں ہوں اور میرے دیور اور رشتہ دار وغیرہ بھی میرے اور میری بچیوں کی کفالت سے قاصر ہیں۔ ان تمام مجبوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا شریعت مجھے اجازت دیتی ہے کہ میں پرائز بانڈ خرید کر یا بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھول کر اپنا اوراپنی بچیوں کا گزر بسر کر سکتی ہوں؟
جواب… صورت مسئولہ میں آپ کے لیے پرائز بانڈ خریدنا یا بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا او راس کے نتیجے میں اضافی رقم حاصل کرنا دونوں ناجائز او رحرام ہیں، کیوں کہ یہ سود ہے اور سود پر الله تعالیٰ نے اتنی سخت وعید فرمائی ہے جو کسی او رگناہ پر نہیں فرمائی ہے یہاں تک کہ سودی کاروبار کو الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے خلاف جنگ کے مترادف قرار دیا ہے، لہٰذا ایسا کرنے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
باقی سوال میں آپ نے اپنے جن حالات او رمشکلات کا ذکر کیا ہے، یقینا ان کے مقابلے میں ان مسلمانوں اور صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین کے حالات بہت زیادہ درد ناک تھے، جن کوخطاب کرکے سود کو حرام کر دیا گیا اور سخت وعیدیں سنائی گئیں، وہ حضرات کئی کئی روز تک فاقہ کرتے تھے، بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر جاتے تھے ، کپڑا بھی پورے بدن کو چھپانے کے لیے موجود نہیں تھا، نکاح کی خاطر مہر میں دینے کو لوہے کی انگوٹھی تک میسر نہیں آئی، صرف ایک لنگی بدن پر تھی ، اس میں سے آدھی لنگی مہر میں دینے پر آمادہ ہوئے ، خود حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو ازواج مطہرات کے نفقہ کے لیے جہاد میں کام آنے والی اپنی زرہ یہودی کے پاس رہن رکھنے کی نوبت آئی اوراسی حال میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہوا ، ان حالات کے باوجود ان حضرات کو کفار کے مال ودولت کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کو بھی منع فرما دیا گیا، اس لیے آپ بھی ان حالات میں صبر سے کام لیں اور الله تعالیٰ کا شکر ادا کرتی رہیں روزی دینا الله تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور کوشش کرکے کسی جائز اور حلال کاروبار میں اپنا پیسہ لگائیں، اسی میں الله تعالیٰ برکت عطا فرمائیں گے۔
جس لڑکی کو نکاح کا پیغام دیا جاتا ہے اس کو دیکھنے کا حکم
سوال…1 کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں کہ ہمارے خاندان میں یہ طریقہ ہے کہ جب لڑکے کی کہیں منگنی کی جاتی ہے تو لڑکی کو ایک کمرے میں بٹھا دیتے ہیں اور لڑکے کو اس کمرے سے گذرواتے ہیں مقصود یہ ہوتا ہے کہ لڑکا لڑکی کو ایک نظر دیکھ لے ، یا پھر یہ کرتے ہیں کہ جس کمرے میں لڑکا یا اس کے گھر والے بیٹھے ہوتے ہیں ، وہاں پر لڑکی کو کسی بہانے سے مثلاً چائے وغیرہ لوازمات دے کر بھیجتے ہیں تاکہ لڑکا او راس کے گھر والے اس کو دیکھ لیں ، شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
2. نیز اگر لڑکا لڑکی کی تصویر منگوا کر دیکھے تو کیا حکم ہے !
جواب…2،1 سوال مذکور میں آپ نے جو صورتیں درج کی ہیں ، شریعت میں اس کی اجازت نہیں ۔ اس طرح کے طریقے اختیار کرنے میں درج ذیل مفاسد موجود ہیں:
1... لڑکی کو ایک نمود ونمائش کی چیز بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ہر کوئی آتا ہے اسے دیکھتا ہے او رپسند نہ آئے تومنع کر دیتا ہے، یہ بات انسانی وقار اور شرافت کے خلاف ہے ، نیز اس طرح کرنے سے لڑکی کی اپنی طبیعت پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے اور وہ احساس کم تری کا شکار ہو جاتی ہے۔
2...بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کا اہتمام کرنے کے بعد اگر لڑکے والے منع کردیں تو یہ بات دونوں خاندانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔
لہٰذا بہتر صورت یہ ہے کہ لڑکے کی رشتہ دار عورتوں میں سے بعض لڑکی کو دیکھنے جائیں او راس کی صفات کی خبر لڑکے کو کر دیں ۔ اس میں بہتر یہ ہے کہ اچانک اور بغیر بتائے جایا جائے تاکہ لڑکی کی صحیح اور اصل طبیعت کا اندازہ ہو جائے ، بتا کر جانے میں صحیح طبیعت اور صفات کا اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ بعض شرم اور بعض تکلف کی وجہ سے مزاج اصلی سے واقف نہیں ہونے دیتیں۔
لڑکے کو اگر لڑکی دیکھنے کی ضرورت محسوس ہو تو ایک بار چھپ کر دیکھنے کی اجازت ہے کہ لڑکی کو پتا نہ چلے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
جہاں تک آپ نے تصویر کا ذکر کیا تو تصویر کشی ویسے ہی حرام ہے لہٰذا تصویر منگوا کر دیکھنا جائز نہیں۔
امام اور مؤذن کو اپنا ملازم سمجھنا
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: جو علمائے کرام یا حفاظ مسجدوں میں خطابت اور امامت ، مؤذن کی ذمے داریاں سر انجام دیتے ہیں اور مسجد انتظامیہ، نمازی حضرات کے دیے ہوئے فنڈ سے ان کو ماہانہ وظیفہ دیتے ہیں او رجب علماء یا امام صاحب مسجد کے کسی معاملے میں انتظامیہ کو مشورہ دیں یا کسی معاملے میں حصہ لیں تو انتظامیہ کہتی ہے کہ آپ ہمارے ملازم ہو جو لوگ انتظامیہ میں ہوں یا محلے کے نمازی ہوں تو خطیب ، امام ، موذن، خادم کو اپنا ملازم سمجھیں اور نمازیوں کو کہیں کہ ” ہم ان کو تنخواہ دیتے ہیں“ یہ ہمارے ملازم ہیں او رایسا کہنے والے اسی امام کے پیچھے نمازیں بھی ادا کرتے ہیں ۔ امام کو ملازم سمجھنے والے اور لوگوں میں امام کو اپنا ملازم کہنے والے لوگوں کی نماز اسی امام کے پیچھے شرعی نقطہ نظر سے کیا حیثیت رکھتی ہے؟
خطیب، امام، موذن کو اپنا ملازم سمجھنا کیا شریعت کی رو سے درست عقیدہ ہے؟
جواب… دین کے تمام اعمالِ خیر میں سب سے اہم او رمقدم چیز نماز ہے، دینی نظام میں اس کا درجہ او رمقام گویا وہی ہے جو جسم انسانی میں قلب کا ہے اور منصب امامت ایک جلیل القدر منصب ہے ، جو گویا کہ نیابت رسالت ہے ، اس لیے امام اور مؤذن کا حد درجہ اکرام واحترام لازم اور ضروری ہے ، ان کو ملازم او رنوکر سمجھنا بہت غلط اور ان کی حق تلفی ہے ، لہٰذا انتظامیہ کو اپنی اصلاح ضروری ہے ، بہرحال ان لوگوں کی اس امام کے پیچھے نماز درست ہے۔
”پیج میکر“ اخباری ڈیزائننگ کرنے والے کی آمدنی کیسی ہے؟
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک اخبار بنانے والا جسے اصطلاح میں ” پیج میکر“ کہتے ہیں، یعنی اخبار کی ڈیزائننگ کرنے والا اسے اخبار کی ڈیزائننگ پر جو معاوضہ ملتا ہے ، کیا وہ از روئے شریعت صحیح(جائز) ہے ، یعنی اس رقم سے وہ دینی فریضہ مثلاً: حج کی سعادت حاصل کرسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
جواب…صورت مسئولہ میں ” پیج میکر“ اگر ناجائز مواد ( مثلاً غلط خبروں، تحریروں او رجاندار کی تصاویر) کی پیج میکنگ کرتا ہے تو اس کی اجرت (تنخواہ) ناجائز او رحرام ہے او راس سے فریضہ حج ادا کرنا بھی جائز نہیں او راگر جائز مواد کی پیج میکنگ کرتا ہے تواس کا معاوضہ اور اس سے حج ادا کرنا دونوں جائز ہیں او راگر جائز اور ناجائز دونوں قسم کا مواد ہے او ردونوں برابر یا ناجائز زیادہ ہے تو معاوضہ ناجائز ہے او راگر جائز مواد زیادہ ہے توپوری تنخواہ کو ناجائز نہیں کہا جائے گا او راس سے فریضہ حج ادا کرنا جائز ہو گا، البتہ اس پر حرام کام کے بقدر معاوضہ کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا لازم ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق ناجائز آمدنی سے حج ادا کرنے سے فریضہ حج ذمے سے ساقط ہو جائے گا، اگرچہ ایسا کرنا ناجائز ہے اور اس کو حج کا ثواب نہیں ملے گا۔
پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں :
1...اگر شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو تو کیا گناہ ہے صغیرہ گنا ہے یا کبیرہ گناہ ہے؟
2...اورعذر کی وجہ سے نیچے لٹکانا جائز ہے ؟ یا اگر وہ یہ کہے کہ میں نے عاجزی کی وجہ سے شلوار ٹخنوں کے نیچے لٹکایا ہے کیا یہ جائز ہے ؟ یا اور ایسا عذر کرے کہ شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنے کی وجہ سے پیٹ بڑا ہوتا ہے۔
جواب… شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا گناہ کبیرہ ہے ، کیوں کہ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا تکبر کی علامت ہے او رحدیث شریف میں ایسا کرنے والے شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے ، ایک حدیث میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ الله تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں کریں گے ، نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے ، نہ ان کو گناہوں سے پاک کریں گے او ران کے لیے درد ناک عذاب ہے ، ایک وہ شخص جس کی چادر ٹخنوں سے نیچے ہو ، دوسرا وہ شخص جو صدقہ دے کر احسان جتلائے، تیسرا وہ شخص جو جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسا کرنے سے مکمل اجتناب کیا جائے اور شلوار ٹخنوں سے اونچا رکھنے کی عادت بنائی جائے۔
یہ کہنا کہ ہم عاجزی کی وجہ سے شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں، یا ایسا کرنے سے پیٹ بڑا ہوتا ہے تو وہ غلط کہتے ہیں او رتکبّر کی وجہ سے شریعت مطہرہ کے اس حکم کو توڑنے کے لیے بہانے بناتے ہیں او رایسی باتیں کرنا ان کے ایمان کی کمزوری اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں سے محبت کی کمی بلکہ نفرت کی علامت ہے، کیوں کہ ہمارے زمانے میں جولوگ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کے عادی ہیں وہ اپنے قصد واختیار اور ارادے سے ایسا کرتے ہیں او راس فعل کو موجب افتخار سمجھتے ہیں اور ٹخنوں سے اونچا رکھنے میں ذلت اورخفت محسو س کرتے ہیں ، تو اس کا منشا تکبر کے سوا کیا ہو سکتا ہے ؟ او رجس فعل کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم تکبر قرار دیں، اس میں عاجزی کہاں ہو سکتی ہے؟ بلکہ سنتِ نبوی علی صاحبھا الصلاة والسلام کو حقارت کی نظر سے دیکھنے او راس کو سبب مرض کہنے اور سمجھنے میں تو گناہ سے بڑھ کر ایمان کے سلب ہونے کا اندیشہ ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین !