طریقے سے منتقل ہوتا ہے۔ یعنی اللہ والوں کے اندر ولایت سازی کی جو خاصیت ہے، ان کو جو اللہ تعالیٰ کی محبت اور دوستی اور تقویٰ کی حیات حاصل ہے وہ چار طریقوں سے منتقل ہوتی ہے۔
نفس و شیطان کو مغلوب کرنے کے داؤ پیچ
۱) اللہ والوں کے پاس بیٹھنے کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی دین کی ایسی بات سنادیں گے اور ایسا داؤ پیچ سکھادیں گے کہ نفس کو پٹکنے میں آسانی ہوجائے گی۔ جیسا کہ دنیا کے اکھاڑے میں ہوتا ہے کہ داؤ پیچ جاننے والا دبلا پتلا چالیس کلو کا پہلوان تین من کے پہلوان کو گرادیتا ہے۔ تو اللہ والے اپنے ملفوظات سے ہمیں نفس و شیطان کو پٹکنے کے داؤ پیچ سکھاتے ہیں جس سے نفس و شیطان غالب نہیں آتے۔
اہل اللہ سے مستفید ہونے کی شرطِ اوّلیں
لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی باتوں پر عمل کرے اور ان کی رائے کے سامنے اپنی رائے کو فنا کردے، تب یہ مقام نصیب ہوگا کہ جیسے وہ نفس و شیطان کو پٹکتے ہیں آپ بھی پٹکنے لگیں گے اور اس کی مثال وہی ہے کہ جیسے لنگڑے آم میں جو خاصیت، لذّت اور ذائقہ ہے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے، دیسی آم کا صرف اتنا کام ہے کہ لنگڑے آم کے سامنے اپنا خاص ہونا بھول جائے کہ میں بھی کوئی خاص چیز ہوں، اپنے وی آئی پی(V.I.P) ہونے کا احساس ختم ہوجائے، اپنے کو مٹاکر لنگڑے آم سے مل جائے۔ اسی طرح اللہ والوں کے سامنے اپنی بڑائی، اپنا علم و قابلیت سب ختم کردو، اپنی ضَرَبَ یَضْرِبُ بھی بھول جاؤ۔ ورنہ ساری زندگی ضارب و مضروب رہوگے، کہیں ماروگے کہیں مارے جاؤگے اور کہیں مَفْعُوْلْ مَالَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہٗ ہوجاؤگے، پتا بھی نہیں چلے گا کہ کون مار کر چلاگیا۔ کبھی ایسی پٹائی بھی ہوتی ہے کہ پیٹنے والا کوئی نشہ پلاکر بے ہوش کردیتا ہے اور خوب پٹائی کرتا ہے، صبح کو جب ہوش آتا ہے تو چوٹ کا درد تو محسوس کرتا ہے مگر پیٹنے والے کا پتا نہیں چلتا، اس کا نام عربی زبان میں مَفْعُوْلْ مَالَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہٗ ہے یعنی وہ مفعول جس کے فاعل کا پتا نہ چلے جیسےضُرِبَ زَیْدٌ زید مارا گیا اور مارنے والے کا پتا نہیں۔ ایسے ہی شیطان کی مار ہے کہ شیطان نظر نہیں آتا لیکن