تُو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
ہم جان گئے بس تری پہچان یہی ہے
قلب کی طہارت اور قالب کی حفاظت
اب سوال یہ ہے کہ گناہ تو قالب یعنی جسم سے ہوتے ہیں پھر قلب کی طہارت کیوں مانگی جارہی ہے؟تو جواب یہ ہے کہ پہلے دل ناپاک ہوتا ہے، پہلے دل میں گناہوں کے ناپاک ارادے پیدا ہوتے ہیں اور دل گناہوں کی اسکیم بناتا ہے لیکن چوں کہ دل خود گناہ نہیں کرسکتا، اس لیے جسم سے کام لیتا ہے، بادشاہ رعایا سے کام لیتا ہے۔ پس قلب کی طہارت قالب کی طہارت کی ضمانت ہے۔ اس لیے قلب کی طہارت پہلے مانگی جاتی ہے کیوں کہ جب دل پاک رہے گا تو جسم سے ناپاک عمل ہو ہی نہیں سکتا، پہلے دل ناپاک ہوتا ہے پھر جسم گناہ کرتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اختر کو یہ دعا نصیب فرمائی کہ اے خدا! قلب کو طہارت نصیب فرما اور قالب کو حفاظت نصیب فرما۔ قالب کے معنیٰ ہیں جسم اور قلب کے معنیٰ ہیں دل۔ قلب میں حروف کم ہیں اور قالب میں ایک الف زیادہ ہوگیا اور عربی بلاغت کا قاعدہ ہے اِنَّ کَثْرَۃَ الْمَبَانِیْ تَدُلُّ عَلٰی کَثْرَۃِ الْمَعَانِیْ یعنی جب حروف بڑھ جائیں گے تو معانی بھی بڑھ جائیں گے، لہٰذا قلب میں ایک الف بڑھ گیا اور قالب بن گیا تو معانی بھی بڑھ گئے، قلب ایک عضو کا نام ہے اور قالب مجموعۂ اعضا کا نام ہے۔آنکھ، کان، ناک، ہاتھ، پاؤں وغیرہ تمام اعضا قالب میں شامل ہیں، لیکن قلب اگرچہ ایک ہے مگر اتنا اہم ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ8؎
جب دل صحیح ہوتا ہے تو پورا جسم صحیح ہوتا ہے اور اس سے نیک اعمال صادر ہوتے ہیں اور جب دل خراب ہوتاہے پورا جسم خراب ہوجاتا ہے اور اس سے گناہ صادر ہونے لگتے ہیں لہٰذا اگر قلب کو پاکی نصیب ہو اور قالب کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت نصیب ہو تو کام بن گیا اور ہم تقویٰ پاجائیں گے مگر قلب کو حفاظت صرف دعا سے نصیب نہیں ہوگی جیسے اولاد صرف دعا سے
_____________________________________________
8؎ صحیح البخاری :13/1 (52)،باب فضل من استبرأ لدینہ،المکتبۃ المظہریۃ