Deobandi Books

فضائل صدقات اردو - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

307 - 607
۳۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ  رَئُ وْفٌ بِالْعِبَادِ o (البقرۃ : ع ۲۵)
اور بعض آدمی بیچ دیتے ہیں اپنی جان کو اللہ کی رضا کی چیزوں میں۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں پر مہربان ہیں۔
۴۔ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَیَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ط وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ o  (البقرۃ : ع ۲۶)
دنیوی معاش کفار کے لیے آراستہ کر دی گئی اور وہ مسلمانوں کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں، حالاںکہ یہ مسلمان جو کفر وشرک سے بچتے ہیں قیامت کے دن ان کافروں سے (درجوں میں) بلند ہوں گے۔ اور (آدمی کو محض فراغِ معیشت پر غرور نہ کرنا چاہیے، کیوںکہ )روزی تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بے حساب دے دیتے ہیں۔ (اس لیے محض امیر ہونا کوئی فخر کی چیز نہیں ہے)
۵۔ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ج (آل عمران :ع۱۴)
اور یہ دنیا کی زندگی کے دن، ان کو ہم لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ 
یعنی کبھی ایک قوم غالب ہوگئی کبھی دوسری غالب ہوگئی۔ اس لیے غالب یا مغلوب ہونے کی فکر سے زیادہ اہم اور زیادہ ضروری آخرت کی فکر ہے۔
۶۔ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ ط وَّالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی قف وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً o اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ  ط (النساء :ع۱۱)
آپ کہہ دیجیے کہ دنیا کا تمتع بہت تھوڑا (چند روزہ) ہے، اور آخرت ہر طرح سے بہتر ہے اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور تم پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ تم چاہے کہیں بھی ہو وہاں ہی موت آکر رہے گی،اگرچہ تم قلعی چونہ کے قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ (پھر جب مرنا بہرحال ہے تو اس کی فکر ہروقت رہنا چاہیے)
۷۔ وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ج تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ ط (النساء : ع۱۳)
اور ایسے شخص کو جو تمہارے سامنے اطاعت (کی علامت) ڈال دے (مثلًا السلام علیکم کرے یا کلمہ پڑھے) یوں مت کہہ دیا کرو کہ تو (دل سے) مسلما ن نہیں۔ تم دنیاوی زندگی کا سامان ڈھونڈتے ہو،حالاںکہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سے غنیمت کے مال ہیں۔
فائدہ : یہ آیتیں اس پر تنبیہ ہیں کہ بعض مسلمانوں نے بعض کافروں کو جو اپنے کو مسلمان بتاتے تھے ،مالِ غنیمت کے شوق میں قتل کر دیا تھا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ محض دنیا کم بخت کا مال کمانے کے لیے یہ ناپاک حرکت کی گئی ۔ بہت سی احادیث میں ان واقعات کو تفصیل سے ذکر کیا گیا۔ ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک مسلمان نے ایک کافر پر حملہ کیا 
Flag Counter