Deobandi Books

تزکیہ نفس

ہم نوٹ :

24 - 34
تھوڑی دیر خلوت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشغول رہنے کی تعلیم کا ثبوت ہے۔ جو خلوت میں تھوڑی دیر مشغول بحق نہیں رہے گا جلوت میں اس کو درد بھرا کلام نصیب نہیں ہوگا۔فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلًا سے تو کل بھی ثابت ہوگیا مع اس کی تمام وجوہات کے کہ اللہ تعالیٰ ربّ المشرق بھی ہے اور ربّ المغرب بھی ہے۔ جو دن اور رات پیدا کرسکتا ہے وہ ہمارے رات و دن کے کام بنانےپربھی قادر ہے۔مولانا رومی فرماتے ہیں کہ جو سر پیدا کرسکتا ہے کیا وہ ٹوپی نہیں پہناسکتا؟ بتاؤ! سر قیمتی ہے یا ٹوپی قیمتی ہے؟ جو معدہ بناسکتا ہے وہ دو روٹی نہیں کھلاسکتا؟ اگر معدہ میں کینسر ہوجائے تو دس دس لاکھ روپے خرچ کرتے ہیں پھر بھی اچھا نہیں ہوتا۔ اسی طرح مقامِ صبر اور ہجران جمیل کا ثبوت بھی ان آیات میں ہے۔ تصوف کے جتنے منازل ہیں سب ان آیتوں میں ہیں۔
اب صرف دو منزلیں رہ گئیں۔ سورۂ مزمل کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یٰۤاَیُّہَاالۡمُزَّمِّلُ، قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا اس سےتہجدکی نماز اور وَ رَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ  تَرۡتِیۡلًا 10؎ سے تلاوتِ قرآن کا ثبوت ہے۔ یہ دونوں منتہی کے اسباق ہیں۔ جتنے منتہی ہیں سب کا آخری معمول زیادہ تر راتوں کی نماز اور تلاوتِ قرآن ہوجاتا ہے۔ منتہی پر آخر میں ان ہی دو چیزوں کا غلبہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ یعنی نمازِ تہجد اور قرآن کی تلاوت۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ جن کو شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ یہ اپنے وقت کے امام بیہقی ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ جو ابتدائی سبق تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے آخر میں بیان فرمایا اور جو منتہی کا سبق تھا اس کو پہلے کیوں نازل کیا؟دیکھیے! دورہ تو بعد میں ملتا ہے، پہلے موقوف علیہ پڑھایا جاتا ہے لیکن یہاں مبتدی اور متوسط کے اسباق بعد میں بیان ہوئے لیکن منتہی کا اعلیٰ سبق پہلے نازل ہوا۔ اس اشکال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ جس پرقرآن نازل ہورہا تھا وہ چوں کہ تمام منتہیین کے سردار ہیں،سیّد المنتہیین،امیر المنتہیین تھے، اُن سے بڑھ کر کون منتہی ہوسکتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے سیّد الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عُلوِمرتبت اور رفعتِ شان کے مطابق پہلے اعلیٰ سبق نازل فرمایا کیوں کہ جن پر قرآن اُتر رہا تھا وہ سب سے اعلیٰ تھے۔
_____________________________________________
10؎  المزمل  :4
Flag Counter