Deobandi Books

کوثر العلوم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

25 - 31
جس کام کو کرنا چاہتے ہیں اس کو گھیر گھار کر جائز کر لیتے ہیں ۔ گو دل میں جانتے ہیں کہ جاجائز ہے ۔ بعضے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے مشائخ اور اساتذہ کرام بہت نیک کام کرتے ہیں ۔ ہم بھی ان کے ساتھ بخشے جائیں گے قیامت میں وہ ہم کو بخشوا لیں گے ۔ یہ تو وہی حالت ہے ۔ 
وَقَا لَتِ الْیَھُوْدُوَالنَّصَارٰی نَحْنُ أَبْنَائُ اﷲُ وَأَحِبَّائُہ‘
ان کو بھی اپنے نبی زادے اور صاحب علم ہونے پر ناز تھامگر حق تعالیٰ نے اس گھمنڈ کو باطل کردیا ۔ کیا تم نے یہ حدیث نہیں سنی ۔ 
ویل لمن لا یعلم ولوشاء اﷲ لعلمہ واحد من الویل وویل لمن یعلم ولا یعمل سبع من الویل (ص عن جبلۃ مرسلۃ ای رواہ سعید بن منصور فی سننہ کذا فی العزیزی ص ۳؍۴۱۷)
(یعنی جاہل کے لیے ایک ہلاکی ہے اور عالم کے لیے سات گونہ ہلاکت ہے ۱۲) آخر اس حدیث پر عمل کرنے کے لیے کیا کوئی دوسری مخلوق پیدا ہوگی ؟ کیا یہ تعلیمات ہمارے واسطے نہیں ہیں؟
طلباء کی کوتاہیاں
ایک کوتاہی طلباء میں یہ ہے کہ امارد کی طرف نظر کرنے اور ان کے ساتھ اختلاط کرنے سے نہیں بچتے حالانکہ یہ تقویٰ کے لیے سم قائل ہے ۔ آخرت کا مواخذہ تو شدید ہے ہی ، اس سے دنیا میں بھی اہل علم کی سخت بدنامی ہوتی ہے ۔ علم دین پڑھنے والوں کو اس باب میں سخت احتیاط کرنا چاہئے ۔
ایک کوتاہی یہ ہے کہ چندہ میں احتیاط نہیں کرتے ۔ اہل وجاہت کے دباؤ سے چندے وصول کرتے ہیں۔ ایک کوتاہی یہ ہے کہ طلباء میں استادوں کا ادب نہیں ہے ۔ اورجن استادوں کا ادب کرتے ہیں وہ استادی کی وجہ سے نہیں کرتے بلکہ بزرگی اور شہرت کی وجہ سے ہے ۔ استادی کا ادب ہوتا تو جو استاد مشہور بزرگ اور مقتدا نہیں ہیں ان کا بھی ادب کیا جاتا ۔ کیونکہ استادی کا حق کا حق تو ان کو بھی حاصل ہے ۔
کانپور میں ایک مدرسہ کے ایک طالب نے مجھ سے خود بیان کیا کہ اس سال استاد نے تصریح پڑھنے کی رائے دی تھی مگر میری زبان سے شرح چغمینی کا نام نکل گیا تھا ۔ بس مجھے اس کی ضد ہوگئی اور وہی شروع کر کے چھوڑی ۔
اسی طرح ایک مدرسہ میں کسی کتاب کے ختم پر طلباء اور استاد کی تو یہ رائے ہوئی کہ شمس بازغہ ہونا چاہئے ۔ خیر شمس بازغہ ہی منظور ہو گیا تو آپ شب کو استاد کے پاس پہنچے ان کو مکان سے باہر بلا کرکہتے ہیں کہ مولوی صاحب خیریت اسی میں ہے کہ صدرا ہو۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
بھلا اس حالت میں ان کم بختوں کو کیا علم حاصل ہوگا ۔ بس کتابیں ختم کرلیں گے مگر علم جس کا نام ہے اس کی ہوا بھی نہیں لگے گی ۔ پھر حیرت یہ ہے کہ جو استاد گھر پر پڑھاتے ہیں ان کی تو کچھ قدر بھی ہوتی ہے لڑکوں کو بھی اور ماں باپ کو بھی ، حالانکہ ان کو تنخواہ دیتے ہیں اور ان مدارس کے استادوں کی تو 
Flag Counter