نہ ہر کہ چہرہ برافروخت دلبری داند
نہ ہر کہ آئینہ دارد سکندری داند
ہزار نکتہ باریک تر ز مو ایں جا ست
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند
بس اس سے زیادہ پتہ میں حقیقت کا نہیں بتلا سکتا ظاہر میں تو چھوٹا سا لفظ ہے ’’فھما اوتیہ الرجل فی القرآن‘‘مگر یہ کہ وہ فہم کیاچیز ہے اور کس درجہ کی ہوتی ہے اس کے بیان سے الفاظ قاصر ہیں ۔ بس اس کے سمجھنے کا طریقہ یہی ہے کہ تقویٰ اختیار کرکے دیکھ لو ۔ الفاظ سے کمالات حقیقیہ کی تعبیر نہیں ہو سکتی ؎
پرسید کسے کہ عاشقی چیست
گفتم کہ چو ما شوی بدانی
امور ذوقیہ
مولانا محمد یعقوب صاحب ؒ فرماتے تھے کہ امور ذوقیہ کی حقیقت بیان سے سمجھ میں نہیں آسکتی ۔ دیکھو اگر کسی نے آم نہ کھایا ہو اور تم اس سے آم کی تعریف کرو کہ ایسا لذیذ اور میٹھا ہوتا ہے تو وہ کہے گا کہ گڑ جیسا ہوتا ہے ۔ تم کہو گے نہیں ۔ وہ کہے گا شکر جیسا یا انگور وانارجیسا ۔ تم کہوگے نہیں۔ پھر وہ اصرار کرے گا کہ بتلاؤ کیسا ہوتا ہے تم یہی کہو گے کہ بھائی ہم کو اس کے بیان پر قدرت نہیں ایک دفعہ کھا کر دیکھ لو خود معلوم ہوجائے گا ۔اس وقت اس شخص کو تعجب ہوگا اور اس بات کا یقین نہ کرے گا کہ بیان پر قدرت نہیں مگرجب کھالے گا تو اب وہ بھی بیان پر قادر نہ ہوگا۔
یہ بات کچھ کمالات حقیقیہ ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ محسوسات میں بھی جس کا ذوق سے تعلق ہے وہ الفاظ سے بیان نہیں ہو سکتی ۔
ایک ترکی امیر کا قصہ ہے کہ اس کی مجلس میں مطرب ایک غزل پڑھ رہا تھا جس کے اشعار میں نمی دانم نمی دانم بار بار آتا تھا مثلاً ؎
گلی یا سوسنی یا سرو یا ماہی نمی دانم
ازیں آشفتہ بیدل چہ می خواہی نمی دانم
وہ ترک شراب پئے ہوئے تھا ۔ ایک دوشعر تو اس نے سنے ، جب اس نے بار بار اسی نمی دانم کا اعادہ کیا ، تو اس نے ایک گھونسہ مارا کہ’’ ایں نمی دانی چہ گوئی آنچہ می دانی بگو‘‘ یعنی جس بات کو نہیں جانتا اس کو بار بار کیوں دہراتا ہے جو جانتا ہے وہ کہہ ۔ یہ قدر کی اس نے شعر کی ۔ تو یہ بات کیا تھی کہ اس کو شعر کا ذوق نہ تھا ۔ اگر ذوق ہوتا تو مست ہوجاتا لیکن جس کو شعر میں مزہ آتا ہے اس سے ذرا پوچھئے بس یہی کہے گا کہ بیان پر قدرت نہیں ۔ ذوق حاصل ہونے سے پہلے تو آپ کو یقین نہ آئے گا۔ مگر ذوق حاصل ہونے کے بعد آپ بھی یہی کہیں گے ۔
جیسے ایک بزرگ کا قصہ ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ سارے ولی مرتے