ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
پاکستانی دارالحکومت کے قلب میں یرغمال بنایا ہوا ہے۔'' (رپورٹ اس طرح کے زہریلے الفاظ اَور تجزیوں سے پُر ہے)۔ ٭ (لال مسجد کے علماء اور طلباء و طالبات) منکرِ دین، بے وفا، فراری اَوباش (Renegade) جنگجوئوں کا گروپ ہے جو ''تکفیری'' کہلاتے ہیں، یہ اُن مسلمانوں پر جنگ مسلط کردیتے ہیں جو اُن کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتے، یہ نظریاتی طور پر حکومت دُشمن، بدنظمی پسند، اِنتشاری اور شورش طلب (Anarchist) اَور معروف جہادی گروپس کے درمیان بے خانماں اور خارجی (Outcastes) لوگ ہیں۔ ٭ میرے خیال میں (سانحہ میں) ہلاک و زخمی ہونے والوں کی کل تعداد 200سے250 ہوسکتی ہے بشمول 75جنگجوئوں کے، اِس تعداد کو حکومت نے بھی تسلیم کیا ہے، مُلّا دبائو بڑھا رہے ہیں یہ منوانے کے لیے کہ اَندر 1000لوگ تھے، یہ بے معنی اور فضول بات ہے، جیسا کہ اُن کے مرحوم لیڈر کہتے رہے کہ اَندر 1800 لوگ ہیں یہ (Bluff) تھا۔ ٭ جی ہاں! میڈیا کو جو ہتھیار دِکھائے گئے، اُن کا تعلق اِن جنگجوئوں سے تھا اَور اِن عمارتوں میں اسلحے کا بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا جن میں مشین گنیں، راکٹ لانچرز، بارودی سرنگیں، ہینڈ گرنیڈز، گیس ماسک، مولوٹوو کوک ٹیلز اَور خودکش حملے کی جیکٹس شامل تھیں، ہمیں کوئی شبہ نہیں کہ اِس معاملے میں حکومتی موقف بالکل درست ہے، لال مسجد ایک عارضی اسلحہ (Weapons Dump) تھی اَور بلاشبہ ایک طویل جنگ اور مسلح بغاوت (Armed Rebellion) کے لیے تیار مقام۔ ٭ باوجود اِس کے کہ مولوی مُصِر ہیں کہ مدرسے میں 1000سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، ہمارے پاس اِس بات کو تسلیم کرنے کی کوئی وجہ نہیں، یہ محض بڑے پیمانے پر پھیلائی جانے والی ڈِس اِنفارمیشن ہے، کوئی ایک ،جی ہاں! ایک بھی کسی ثبوت کے ساتھ آگے نہیں آیا جس میں مدرسے میں داخل طلباء و طالبات کے نام، رول نمبر اَور پتے درج ہوں اَور نہ ہی کوئی حاضری رجسٹر پیش کیا گیا جس سے پتا چل سکے کہ مدرسہ میں داخل طلباء و طالبات کی اَصل تعداد کیا تھی۔ ٭ ہمارے اپنے ذرائع سے حاصل کردہ مفصل شہادتیں موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ آپریشن