ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2010 |
اكستان |
|
٭ جب بچہ سات دِن کا ہوجائے تو گہوارہ(جھولے ) میں جُھلانا اَور گیت سنانا اُس کو بہت مفید ہے گود میں لیں یا گہوارہ میں لٹائیں بچہ کا سر اُونچا رکھیں۔ جھولے کی زیادہ عادت بچہ کو نہ ڈالیں کیونکہ جھولا ہر جگہ نہیں ملتا اَور بہت گود میں بھی نہ رکھیں اِس سے بچہ کمزور ہوجاتا ہے۔ ٭ بچہ کو الگ سُلائیں اَور حفاظت کے واسطے دونوں طرف کی پٹیوں سے دو چار پائیاں ملاکر بچھادیں یا اُس کی دونوں کروٹ دو تکیے رکھ د یںتاکہ گر نہ پڑے۔ اَورپاس سُلانے میں ڈر یہ ہے کہ شاید سوتے میں کہیں کروٹ کے نیچے نہ دب جائے، ہاتھ پاؤں نازک تو ہوتے ہی ہیں اگر صدمہ پہنچ جائے تو کوئی تعجب نہیں۔ ایک جگہ اِسی طرح ایک بچہ رات کو دب گیا صبح کو مرا ہوا ملا۔ ٭ چھوٹے بچہ کو عادت ڈالیں کہ وہ سب کے پاس آیا جا یا کرے۔ ایک آدمی کے پاس زیادہ جانے سے اگر وہ آدمی خدا نخواستہ مرجائے یا کہیں چلا جائے تو بچہ کے لیے مصیبت ہوجاتی ہے۔ ٭ روزانہ بچہ کا ہاتھ منہ گلا کان گیلے کپڑے سے خوب صاف کردیا کریں میل جمنے سے گوشت گل کر زخم پڑ جاتے ہیں۔ ٭ جب بچہ پیشاب پاخانہ کرے توفورًا پانی سے صاف کر دیا کریں۔ خالی کپڑے وغیرہ سے پوچھنے پر بس نہ کیا کریں اِس سے بچہ کے بدن میں خارش اَور سو زش (جلن) پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر موسم ٹھنڈا ہوا تو پانی ہلکا گرم کریں۔ ٭ جب دُودھ چھڑانے کے دِن قریب آئیں اَور بچہ کچھ کھانے لگے تو اِس کا خیال رکھیں کہ کوئی سخت چیز ہر گز نہ چبانے دیں اِس سے ڈر ہے کہ دانت مشکل سے نکلیں اَور ہمیشہ کے لیے دانت کمزور رہیں۔ ایسی حالت میں نہ غذا پیٹ بھر کر کھلائیں نہ پانی زیادہ پلائیں اِس سے معدہ ہمیشہ کے لیے کمزور ہوجاتا ہے۔ اگر ذرا بھی پیٹ پھولا دیکھیں تو غذا بند کردیں اَور جس طرح ہوسکے بچہ کو سُلادیں اِس سے غذا جلدی ہضم ہوجاتی ہے۔ ٭ جب بچہ کھانے لگے ،انا(کھلانے والی عورت) پر بچے کا کھانانہ چھوڑیں بلکہ خود اپنے یا اپنے کسی سلیقہ دار معتبر آدمی کے سامنے کھانا کھلایا کریں تاکہ بے اندازہ (ضرورت سے زیادہ) کھا کر بیمار نہ ہو جائے۔