Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق ربیع الاوّل 1434ھ

ہ رسالہ

9 - 19
غار والوں کا قصہ ... چند تربیتی پہلو
مفتی محمد جمال الدین قاسمی

عربی میں قصہ، ہندی میں کہانی، فارسی میں داستان او رافسانہ لغوی اعتبار سے ہم معنی الفاظ ہیں ( فرہنگ آصفیہ186/1) قصہ گوئی کوئی نیا فن نہیں ہے، اس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان کی تاریخ پرانی ہے ، فطرت کے دیے ہوئے شعور نے ہی قصہ کو باقاعدہ شکل دی ہے، قبائلی اور خاندانی تعلقات نے آباء واجداد سے فطری لگاؤ پیدا کیا، جس کی بنا پر ان کے واقعات وکارنامے انسانوں کے لیے عزیز اور باعث کشش ثابت ہوئے او راپنی مجلسوں میں ان کو دلچسپی سے بیان کرنا شروع کیا او راسی کو قصہ کا عنوان دیا گیا، پھر جب انسانی تمدن نے فن تحریر سے آشنائی پیدا کی تویہی قصہ گوئی، قصہ نویسی کا روپ اختیار کرکے فنون لطیفہ کا ایک اہم جز بن گئی، جس کو قرآن پاک نے اساطیر الاولین سے تعبیر کیا ہے۔ (الانعام:25)

آج سے ہزاروں سال قبل ہندوستان کے ویدک عہد میں رگ وید نے اپنے صفحات میں سوسے زائد کہانیوں کو جگہ دی ہے، سنسکرت کی مشہور کتاب ”پنج تنتر“ اور مہابھارت میں متعدد کہانیاں بیان کی گئی ہیں، مصر وبابل کے افسانے اور حکایات لقمان بھی کافی مشہور ہیں، حضرت عیسی علیہ الصلوة والسلام سے چار سو سال قبل عبرانی زبان میں دو مقدس کتابیں توریت وزبور اللہ تعالیٰ کے دو بر گزیدہ بندوں حضرت موسی علیہ الصلوة والسلام اور حضرت داوٴد علیہ الصلوة والسلام پر نازل ہوئیں، جن میں حضرات انبیاء علیہم الصلوة والسلام کے حالات وواقعات کو بڑے حسین انداز میں بیان کیا گیا، پھر فلسطین میں حضرت عیسی علیہ الصلوة والسلام کے ورود اور ان پر انجیل کے نزول نے اس فن کو مزید مواد فراہم کیا۔

لیکن یہ ساری مذہبی اور آسمانی کتابیں چوں کہ تحریف کی نذر ہوگئیں، اس لیے وہ جملہ واقعات یقین واعتماد کی منزلوں سے اتر کر شکوک وشبہات میں تبدیل ہوگئے، بالآخر خدا کی آخری کتاب ہدایت قرآن حکیم کے ذریعہ اس اہم صنف کی طرف توجہ دلائی گئی اور یہ باور کرایاگیا کہ قصے تفریح طبع، وقت گذاری اور زندگی کے مسائل سے جی چرانے کا سامان نہیں ہیں، بلکہ عبرت ونصیحت کا ایسا دفتر ہیں جس سے قلوب کو منور اور اعمال کو سنواراجاسکتا ہے، وہ اطمینان قلب اور اعتماد نفس کے لیے ہیں،وہ بیداری شعور اور تحقیق وتسکین کے لیے ہیں، ان سے تنبیہ کا کام بھی لیا جاسکتا ہے اور تذکیر کابھی، قرآن پاک نے خود اس کی اہمیت کو بیان کیا ہے: ﴿لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِہِمْ عِبْرَةٌ لِّأُوْلِیْ الأَلْبَابِ﴾․(یوسف: 111)

”ان (انبیا وامم سابقین) کے قصوّں میں سمجھ دارلوگوں کے لیے (بڑی) عبرت ہے۔“

اور ایک جگہ انبیا اور نافرمان اقوام کے واقعات بیان کرنے کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: ﴿وَکُلاًّ نَّقُصُّ عَلَیْْکَ مِنْ أَنبَاء الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہِ فُؤَادَکَ وَجَاء کَ فِیْ ہَذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴾․(ہود: 120)

”اور پیغمبروں کے قصوں میں سے ہم یہ سارے قصے آپ سے بیان کرتے ہیں، جن کے ذریعہ سے ہم آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں اور ان (قصوں) میں آپ کے پاس(ایسا مضمون) پہنچا ہے (جو خود بھی) درست (ہے) اور مسلمانوں کے لیے نصیحت (ہے) اور یاد دہانی (ہے)۔“ انہی مقاصد کے تحت قرآن پاک نے بہت سے واقعات کو ذکر کیا ہے۔

حضورصلی الله علیہ وسلم اور قصہ گوئی
آپ صلی الله علیہ وسلم نے بھی قصہ گوئی کے ذریعہ دین وشریعت کے مقاصد کو ساری انسانیت کے سامنے پیش کیا ہے اور اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت فرمائی، آپ صلی الله علیہ وسلم چوں کہ افصح العرب والعجم ہیں؛ اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے جو قصص وواقعات نقل فرمائے ہیں وہ حقیقت پر مبنی ، جچے تلے الفاظ اور عملی زندگی کے لیے پیام جاوید ہیں، پھر زبان انتہائی پاکیزہ اور خالص عربیت کی حامل ہے، اسلامی معاشرہ کی تعمیر اور انسانیت سازی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر آپ صلی الله علیہ وسلم نے جو واقعات بیان فرمائے ہیں وہ مقصد کی تکمیل کے لیے اکسیر اور تیر بہدف ثابت ہوئے۔

حضورصلی الله علیہ وسلم کا قصہ سننا
آپ صلی الله علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ قصہ بیان فرمایا ہے، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قصہ سنا بھی ہے، اور سننے کے بعد اس پر اپنی رضامندی کا بھی اظہار کیا ہے، حضرت جابربن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی مجلس میں سوسے زیادہ باربیٹھا ہوں گا، میں نے دیکھا کہ صحابہث آپ صلی الله علیہ وسلم کی مجلس میں اشعار پڑھا کرتے تھے اور زمانہٴ جاہلیت کے واقعات بھی بیان کرتے تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم خاموش سنتے رہتے تھے اور بسا اوقات ہنسی کی باتوں پر صحابہ کے ساتھ مسکرا بھی دیا کرتے تھے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 32850 باب ماجاء فی انشاد الشعر، وقال الترمذی: ہذا حدیث حسن صحیح)

تمیم داری سے آپ صلی الله علیہ وسلم کا قصہ سننا
آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت تمیم داری سے ایک بڑا تفصیلی واقعہ سنا جو جساسہ اور مسیح دجال سے متعلق ہے اور اسے سن کر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرحت وانبساط کا اظہارفرمایا، پھر صحابہ کرام کو بھی ان واقعات سے آگاہ فرمایا، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی الله علیہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے اور مسکرائے، پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج تمیم داری نے مجھ سے جو اقعہ بیان کیا ہے اس سے بڑی خوشی ہوئی، اس لیے وہ واقعہ میں تمہارے سامنے بھی بیان کرنا چاہتا ہوں، پھر آگے جساسہ اور مسیح دجال کے بعض حالات وکیفیات کا ذکر ہے، طوالت کے خوف سے قلم زد کیا جاتا ہے، اہل ذوق کتب حدیث خاص طور سے”سنن ترمذی، باب ماجاء فی النہی عن سب الریاح، رقم الحدیث: 2253“ کی طرف مراجعت فرمائیں۔

قصص نبوی صلی الله علیہ وسلم کے مجموعے
احادیث میں بیان شدہ قصص وواقعات کی اہمیت کے پیش نظر موجودہ دور میں کئی اہل علم نے ان قصوں کو جمع کیا ہے، ان سے بہت سے دروس مستنبط کیے ہیں اور ان کے ادبی ودعوتی پہلووٴں پر بھی روشنی ڈالی ہے، مثلاً :

الف : مشہود حسن سلمان کی ”قصص الماضین فی حدیث سید المرسلین“ یہ کتاب ریاض سے شائع ہوچکی ہے۔

ب :ڈاکٹر عزالدین علی کی ”الحدیث النبوی من الوجہة البلاغة“ یہ کتاب بھی قاہرہ سے شائع ہوچکی ہے۔

ج : شیخ محمد حسن کی ”القصص فی حدیث النبوی“ یہ کتاب بھی 1978ء میں مصر سے شائع ہوچکی ہے۔

د : تذکرة الدعاة․ جو شیخ بھی ّ کی ہے، مصنف نے اس کتاب میں جہاں دعوت کے اسلوب کو بیان کیا ہے، وہیں بعض احادیث کی ادبی حیثیت کو بھی واضح کیا ہے۔

ہ :الحدیث النبوی، یہ شیخ محمد صباغ کی تصنیف ہے، اس میں مصنف نے حدیث شریف میں وارد قصوں کو جمع کیا ہے۔

احادیث اور قصے
بعض علماء نے صحاح ستہ، موٴطا امام محمد، سنن دارمی اور مسند احمد میں وارد قصوں کو مکررات کے حذف کے بعد شمار کیا ہے تو ان کی تعداد 139ک پہنچتی ہے، اگر حدیث کے دیگر مصادر بھی سامنے رکھ کر جمع کیے جائیں تو قصوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔

حدیث میں دشمن رسول کعب بن اشرف، یہودی سردار ابورافع سلام بن الحقیق اور اسیرم کے واقعہائے قتل کا تفصیلی تذکرہ حقیقی قصہ نگاری کی عملی تصویریں ہیں، گستاخ زمانہ عصماء یہودیہ کا قصہٴ قتل بھی ادب اسلامی میں قابل ذکر اضافہ ہے، حدیث ابوذرع اور اسرائیلی بزرگوں کے سبق آموز واقعات، اسی طرح واقعہ افک اور غزوہٴ تبوک کے موقع سے قصہٴ کعب بن مالک  کی ادیبانہ سحر طرازی اور ان جیسے بے شمار قصے کتب احادیث کی زینت بنے ہوئے ہیں، اس مختصر سے وقت میں ان سب کا احاطہ بہت مشکل ہے، ارباب ذوق کتب احادیث کا مطالعہ کریں، یا پھر اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابیں، جن میں سے بعض کا ذکر گذشتہ سطور میں کیا جا چکا ہے، ان کی طرف مراجعت کریں، یہاں سردست اسرائیلی بزرگوں میں سے غار والوں کا قصہ صحیحین اور فتح الباری کی روشنی میں درج کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس کے تربیتی پہلو پر اختصار کے ساتھ گفتگو کی جائے گی۔

غار والوں کا قصہ
حضرت عبد اللہ بن عمرکہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ:
”انطلق ثلاثة رہط ممن کان قبلکم، حتی آووا المبیت إلی غار، فدخلوہ فانحدرت صخرة من الجبل، فسدت علیہم الغار، فقالوا انہ لا ینجیکم من ہذہ الصخرة إلا أن تدعوا اللہ بصالح أعمالکم، فقال رجل منہم: اللہم، کان لی أبوان شیخان کبیران، وکنت لا أغبق قبلہما أہلا ولا مالا، فنأبی فی طلب شیء یوما، فلم ارِح علیہما حتی ناما، فحلبت لہما غبوقہما، فوجدتہما نائمین وکرہت أن أغبق قبلہما أہلا أومالا، فلبثت والقدح علی یدیّ، أنتظر استیقاظہما حتی برق الفجر، فاستیقظا، فشربا غبوقہما، اللہم، إن کنت فعلت ذلک ابتغاء وجہک، ففرج عنا ما نحن فیہ من ہذہ الصخرة، فانفرجت شیئا لا یستطیعون الخروج، قال النبي صلی الله علیہ وسلم: وقال الآخر: اللہم، کانت لی بنت عمّی، کانت أحب الناس إلیَّ، فأردتہا عن نفسہا، فامتنعت مني حتی ألمَّت بہا سنة من السنین، فجاء تنی، فأعطیتہا عشرین ومائة دینار علی أن تخلِّي بینی وبین نفسہا، ففعلت حتی إذا قدرت علیہا، قالت: لا أحل لک أن تفض الخاتم إلا بحقہ، فتحرَّجتُ من الوقوع علیہا، فانصرفت عنہا وہي أحبُّ الناس إلي،َّ وترکت الذہب الذي أعطیتہا، أللہم، إن کنت فعلت ذلک ابتغاء وجہک، فافرج عنا ما نحن فیہ، فانفرجت الصخرة غیر أنہم لا یستطیعون الخروج منہا، قال النبي صلی الله علیہ وسلم: وقال الثالث: اللہم، إني استأجرتُ أجراء، فاعطیتہم أجرہم غیر رجل واحدٍ ترک الذي لہ، وذہب فثمّرت أجرہ حتی کثرت منہ الأموال، فجاء ني بعد حین، فقال: یا عبد اللہ! أدِّ إلي أجري، فقلت لہ: کل ما تری من أجرک من الإبل والبقر والغنم والرقیق، فقال: یا عبد اللہ! لا تستہزئ بي، فقلت: إني لا أستہزئ بک، فأخذہ کلہ، فاستاقہ، فلم یترک منہ شیئاً، اللہم، فإن کنت فعلت ذلک ابتغاء وجہک، فافرج عنا ما نحن فیہ، فانفجرت الصخرة، فخرجوا یمشون․“ (بخاری حدیث نمبر: 2272)

ترجمہ :تم سے پہلی امتوں میں سے تین حضرات ایک سفر پر نکلے، دوران سفر رات ہوگئی اور بارش بھی ہونے لگی تو ایک غار میں رات گذارنے کے لیے وہ حضرات داخل ہوگئے؛ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ایک بڑا سا پتھر لڑھک کر نیچے آیا اور غار کے دہانے کو بند کردیا، یہ دیکھ کر انہوں نے آپس میں مشورہ کیاکہ اس ابتلا سے نجات کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ مشورہ سے یہی طے ہوا کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے نیک عمل کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے،چناں چہ انہوں نے اپنے اپنے عمل کے حوالے سے دعائیں کیں۔

ان میں سے ایک نے کہا : یا اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے بوڑھے ماں باپ تھے اور شام کو میں سب سے پہلے انہی کو دودھ پلاتا تھا، ان سے پہلے میں اہل وعیال اور غلام وخادم کو نہیں پلاتاتھا،ایک دن میں اپنے جانوروں کے چارہ کی تلاش میں دور نکل گیا اور جب واپس آیا تو ہمارے والدین لیٹ چکے تھے، میں نے دودھ دوہا اور ان کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ گہری نیند میں ہیں، میں نے ان کو جگانا پسند نہیں کیا اور ان سے قبل اپنے اہل وعیال اور غلاموں کو پلانا بھی گوارہ نہیں کیا، میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں پکڑے، ان کے سرہانے کھڑا، ان کے جاگنے کا انتظار کررہا تھا، جب کہ بچے بھوک کے مارے میرے قدموں پر لوٹ پوٹ کرتے رہے، حتی کہ صبح ہوگئی، جب وہ خود بیدار ہوئے تو میں نے انہیں ان کے شام کے حصے کا دودھ پلایا، انہوں نے ماشاء اللہ پی لیا، یا اللہ! اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضا کے لیے کیا تھاتواس چٹان نے جو غار کے منہ کو بند کردیا ہے اور اس کی وجہ سے ہم غیر متوقع مصیبت میں پھنس گئے ہیں، اس سے ہم سب کو نجات عطا فرمادے، دعا کے نتیجے میں وہ چٹان تھوڑی سی سرک گئی، لیکن با ہر نکلنا ممکن نہ تھا۔

دوسرے شخص نے دعا کی، یا اللہ! میری ایک چچازاد بہن تھی، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی، حتی کہ وہ محبت اپنے انتہا کو پہنچ چکی تھی، ایک مرتبہ میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کا ارادہ کیا، لیکن وہ آمادہ نہیں ہوئی اور انکار کردیا، حتی کہ ایک وقت آیا کہ قحط سالی نے اسے میرے پاس آنے پر مجبور کردیا، میں نے اسے اس شرط پر ایک سو بیس دینار دیے کہ وہ اپنے نفس پر مجھے قدرت دے دے، وہ آمادہ ہوگئی، جب میں تنہائی میں اسے لے گیا اور وہ میرے قابو میں آگئی، حتی کہ میں اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کے واسطے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا کہ اللہ سے ڈر اور اس مہر کو ناحق مت توڑ، اس کے ان الفاظ نے یا اللہ تیرا خوف میرے اوپر طاری کردیا اور میں اس سے دور ہوگیا، حالاں کہ وہ عورتوں میں مجھے سب سے زیادہ پیاری تھی، میں نے سونے کے وہ دینار بھی اس کے پاس چھوڑ دیے، جو نفسانی خواہش کی تکمیل کے لیے اسے دیے تھے، یا اللہ! اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لیے کیا تھا تو چٹان کی صورت میں نازل شدہ مصیبت کو تو ہم لوگوں سے دور فرمادے، چناں چہ وہ چٹان کچھ اور سرک گئی، لیکن باہر نکلنے کا راستہ اب بھی نہیں بنا۔

تیسرے صاحب نے دعا کی، یا اللہ! میں نے کچھ مزدوروں کو اجرت پر رکھا تھا، سب کی اجرت میں نے ادا کردی، صرف ایک مزدور ناراض ہو کر اپنی مزدوری لیے بغیر چلا گیا، میں نے اس کی مزدوری سے غلہ خریدا، اسے بویا، پھر اس سے بتدریج بکری، گائے اور غلام وغیرہ خریدے، حتی کہ بہت سارا مال جمع ہوگیا، کچھ عرصہ کے بعد وہ آیا اور کہنے لگا کہ اللہ کے بندے! مجھے میری اجرت ادا کردے، میں نے کہا: یہ اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام جو تجھے نظر آرہے ہیں، یہ سب تیری اجرت کا ثمرہ ہیں، ان سب کے تم مالک ہو، اس نے کہا: اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر، میں نے کہا : میں تم سے مذاق نہیں کررہا ہوں، حقیقت بیان کررہا ہوں، چناں چہ میری وضاحت کے بعد وہ سارا مال لے کر چل دیا، اور اس میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑا، یا اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کی خاطر کیا ہے، تو یہ مصیبت، جس میں ہم پھنسے ہوئے ہیں، دور کردے، پس وہ چٹان بالکل سرک گئی اور غار کا منہ کھل گیا اور سب باہر نکل آئے۔

خلاصہ
ذکر کردہ طویل واقعہ کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے تین صالح اور دین دار حضرات نے رات کی تاریکی اور بارش سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ لی تھی، اچانک ایک بڑا سا پتھرپہاڑ سے گرا اور غار کے منہ کو بند کردیا، اس پتھر کا ہٹانا ان لوگوں کے بس سے باہر تھا، ان تینوں حضرات نے آپس کے مشورے سے یہ طے کیا کہ زندگی میں جس نے جو اچھا عمل اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کے لیے کیا ہو، اس کے وسیلے سے ہر ایک دعا کرے، چناں چہ ان حضرات نے جب دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اس پتھر کو ہٹا دیا اور یہ حضرات صحیح سالم اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے۔

تربیتی پہلو
واقعہ مذکورہ میں انسانوں کے لیے کئی تربیتی پہلو ہیں ، مثلا:
انسان کو یسر وسہولت کے اوقات میں نیک اعمال پر توجہ دینی چاہیے، مامورات شرعیہ کو بجالانا چاہیے، اس کا فائدہ عموماً دنیا میں بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نازک اور مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے شخص کی دست گیری ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ونگراں ہوتا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک دن میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے ! میں تمہیں چند اہم باتیں بتاتا ہوں، انہیں یاد رکھ: تو اللہ کے احکام کی حفاظت کر، اللہ تیری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھ، اللہ کی حفاظت تیرے ہم رکاب رہے گی۔(ترمذی حدیث نمبر:2516)

واقعہ مذکورہ میں بھی تینوں حضرات نے سازگار اور مناسب حالات میں والدین کے ساتھ اکرام اور حسن سلوک کیا تھا، اپنی عفت وپاک دامنی پر حرف آنے نہیں دیاتھا اور مزدور کے ساتھ غیر معمولی نصح وخیرخواہی کا ثبوت دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس پریشانی ومصیبت سے ان لوگوں کو نجات دی جو غار میں آئی تھی اور صحیح سالم باہر نکلنے کا راستہ فراہم کیا۔

اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سے ہی لو لگانا چاہیے، اسی کے دربار میں اپنا دست سوال دراز کرنا چاہیے، کامل اعتماد ویقین اور آہ وزاری کے ساتھ جب اس کے دروازہ پر دستک دی جاتی ہے تووہ جلد یا بدیر ضرور وا ہوتی ہے، اور ظاہری اسباب کے خلاف بھی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہار فرمادیتا ہے، اسی لیے حضور صلی الله علیہ وسلم سے حضرت انس رضی الله عنہ یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ تم لوگ اپنے رب سے ساری ضروریات مانگاکرو،حتی کہ اگر جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اس کی اصلاح کا سوال بھی اس سے کیا کرو۔(ترمذی حدیث نمبر:3604) (جاری)
Flag Counter