سکون قلب کی بے مثال نعمت |
ہم نوٹ : |
|
وہ ہیں جو میرے بعد مجھ پر ایمان لائیں گے حالاں کہ انہوں نے مجھ کو دیکھا بھی نہیں ہوگا۔ بتائیے کہ دیکھنے کے بعد ایمان لانا زیادہ آسان پرچہ ہے یا بغیر دیکھے ایمان لانا زیادہ آسان ہے؟ انسان کی عبادت فرشتوں سے افضل کیوں ہے؟ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ بخاری شریف کی شرح فتح الباری میں تحریر فرماتے ہیں کہ جو لوگ بغیر دیکھے زمین پر اللہ کو یاد کررہے ہیں، ان کے ذکرِ عالمِ غیب پر ملائکہ عالم شہادت کے ذکر کو چھوڑ کر زمین پر آتے ہیں اور اُن کے ذکر کا مزہ لیتے ہیں۔ ملائکہ اللہ کو دیکھ کر جو ذکر کررہے ہیں تو وہ عالم ملکوت سے اپنے اُس ذکر کو چھوڑ کر یہاں زمین پر آتے ہیں، یہاں کوئی تلاوت کررہا ہو، کہیں درسِ قرآن ہورہا ہو، درسِ حدیث یا وعظ ہورہا ہویا کوئی اللہ اللہ کررہا ہو،یہ وہاں جاکر اس کو گھیر لیتے ہیں۔ تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنا عالم شہادت یعنی خدائے تعالیٰ کو دیکھ کر، اُس عالم حضوری کے ذکر کو چھوڑ کر زمین پر جو بغیر دیکھے خدا کو یاد کررہے ہیں ان کے عالم غیب اور ایمانِ غیب کے ذکر کا فرشتے مزہ کیوں لیتے ہیں؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم غیب کا ذکر عالم شہادت سے افضل ہے، دیکھ کر خدا کو یاد کرنے سے بغیر دیکھے یاد کرنا زیادہ افضل ہے کہ انسان بغیر دیکھے ایمان لارہا ہے اور اپنے اللہ کو یاد کررہا ہے، وضو کررہا ہے، نماز پڑھ رہا ہے۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر کو اللہ نور سے بھردے، کیا بات فرماتے ہیں ؎ عشق من پیدا و دلبر ناپدید میرا عشق تو ظاہر ہے مگر میرا محبوب پوشیدہ ہے، نظر نہیں آتا ہے، جن کے لیے ہم وضو کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، رمضان شریف میں دن بھر بھوکے رہتے ہیں،پیاسے رہتے ہیں، جن کے لیے ہم مال کی زکوٰۃ نکالتے ہیں، جن کے لیے حج و عمرہ کرتے ہیں، جن کے لیے جہاد میں گردن کٹاتے ہیں اور اپنا خون زمین پر بکھیر دیتے ہیں وہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے، ہم بغیر دیکھے اس ذات پر فدا ہورہے ہیں۔ شوقِ جہاد میں مولانا شاہ اسماعیل شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے مجاہدات مولاناشاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ دلّی سے جہاد کے لیے بالاکوٹ آئے تھے جہاں