سکون قلب کی بے مثال نعمت |
ہم نوٹ : |
|
گناہ کے تقاضوں کا علاج تو اس نے کہا کہ خارش کے وقت تو کھجانے میں بڑا مزہ آیا لیکن اب اتنی تکلیف ہورہی ہے اور ایسا معلوم ہورہا ہے کہ ولیمہ کی دیگیں اُڑ گئی، شامیانے اُجڑ گئے اوربیوی بھی مرگئی۔گناہ کا بھی بالکل یہی حال ہے، شیطان گناہ میں مزہ ڈال دیتا ہے لیکن آپ یہ بتائیے کہ خارش کا علاج کھجانا ہے یا خون صاف کرنے کی دوا پینا ہے؟ خارش کا علاج کھجانا اور مزہ لینا نہیں ہے ورنہ تو سڑتے سڑتے سارے جسم کی کھال خراب ہوجائے گی، ہاتھی جیسی کھال ہوجائے گی۔ میں نے ہندوستان میں ایک ایسا مریض دیکھا ہے جس کی کھال خارش کی وجہ سے ہاتھی جیسی ہوگئی تھی۔ خارش کی بیماری ایسی بُری ہے اور یہ خون کی خرابی سے ہوتی ہے، اس مریض کی بیماری ایسی بڑھ گئی تھی کہ انسان بھی معلوم نہیں ہورہا تھا۔ تو خارش کا علاج کیا ہے؟ مصفی خون۔ خون صاف کرنے والی دوا پی جائے، جب اندر سے خون صاف ہوجائے گا تو کھجانے کا دل ہی نہ چاہے گا، نہ کھال پھٹے گی، نہ خون نکلے گا، نہ سوزش ہوگی، آرام سے رہے گا۔ جن لوگوں کا خون خراب نہیں ہے اُن کو کوئی کھجانے لگے تو کہیں گے کہ کیا مذاق کررہے ہو، مجھے خارش نہیں ہورہی کیوں کہ خون صاف ہے۔ تو جس طرح خارش کا علاج کھجانا نہیں ہے اسی طرح گناہ کے تقاضوں کا علاج گناہ کرنا نہیں بلکہ دل کی جس خرابی اور فساد سے گناہ کے تقاضے پیدا ہورہے ہیں، دل کی اس گندگی اور خباثت کا علاج کروالیجیے تاکہ قلبِ سقیم، قلبِ سلیم ہوجائے، دل میں اللہ کا خوف آجائے، قیامت کا یقین آجائے پھر گناہ چھوڑنے میں پریشانی نہیں ہوگی بلکہ گناہ چھوڑ کر آپ خوشی محسوس کریں گے۔اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ اہل اللہ کی صحبتوں سے گناہ چھوڑنا آسان ہوجاتا ہے ایک شخص دس ہزار روپے رشوت لے کر چلا،اتنے میں اُس کا ایک دوست موٹرسائیکل پر آیا اور اُس کے کان میں کہا کہ تمہارے ان نوٹوں پر جو تم نے رشوت میں لیے ہیں، تم کو پھانسنے کے لیے اور جیل میں ڈالنے کے لیے دستخط کیے گئے ہیں لہٰذا اب تمہیں پکڑنے کے لیے تمہارے پیچھے پولیس کی جیپ آرہی ہے۔ تو اُس نے جلدی سے وہ نوٹ کھلے ہوئے گٹر