اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا12؎
وحشی سے کہہ دو کہ اگر وہ توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرتا رہے تو سب معاف، پھر کوئی عذاب نہیں ہوگا۔ اس پر انہوں نے دوسرا پیغام بھیجا کہ میں ایمان لانے کے لیے تیار ہوں، توبہ کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن ساری زندگی صالح عمل کرنا یہ شرط بہت سخت ہے ہٰذَا شَرْطٌ شَدِیْدٌ لَعَلِّیْ لَا اَقْدِرُ عَلَیْہِ مجھے امید نہیں کہ میں اس پر قائم رہ سکوں، یعنی میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ ساری زندگی عملِ صالح کرتا رہوں۔ اب بتلائیے حالتِ کفر میں ہیں، اتنے بڑے مجرم ہیں کہ نبی کے چچا کو قتل کیا ہے اور ناز دکھا رہے ہیں، لیکن آہ! کیا رحمت ہے اﷲ تعالیٰ کی کہ ان کے ایمان کے لیے تیسری آیت نازل فرمائی:
اِنَّ اللہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ13
اﷲ تعالیٰ مشرک کو معاف نہیں فرمائیں گے، لیکن شرک کے علاوہ سب گناہ معاف کردیں گے چاہے وہ عملِ صالح کرے یا نہ کرے۔ یعنی عملِ صالح سے بھی آزادی دے دی۔ اب ان کا جواب سن لیجیے۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو بذریعۂ قاصد بھیجتے ہیں کہ اِنِّیْ فِیْ رَیْبٍ میں ابھی شک میں ہوں،کیوں کہ اﷲنے میری مغفرت کو مقید بالمشیت کردیا ہےکہیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ تو مشیت کی جو قید ہے اس میں مجھ کو شک ہے اَنَّ مَشِیَّۃَ اللہِ تَعَالٰی تَکُوْنُ فِیَّ اَمْ لَا یعنی اﷲ کی مشیت میرے بارے میں ہوگی یا نہیں ہوگی؟ اس میں کوئی ضمانت، کوئی گارنٹی نہیں ہے، مجھ کو اس کا یقین نہیں آرہا ہے۔ تین آیتیں نازل ہوگئیں۔ اب چوتھی آیت اﷲ تعالیٰ نازل فرمارہے ہیں وحشی کے اسلام کے لیے، اس سے اندازہ کرو کہ حق تعالیٰ کتنے ارحم الراحمین ہیں کہ ایک جلیل القدر صحابی یعنی نبی کے چچا حضرت سید الشہداء حمزہ رضی اﷲ عنہ کے قاتل کو بھی آغوشِ رحمت میں لے رہے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ اﷲ تعالیٰ کی کیا شان ہے کہ کروڑوں زِنا اور بدمعاشی کے باوجود کوئی نادِم ہوکر توبہ کرلے، تو سب معاف فرمادیتے ہیں۔ اب اﷲ تعالیٰ نے چوتھی آیت نازل فرمائی:
_____________________________________________
12؎ الفرقان :70
13؎ النسآء :48