کے بعد مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مسیلمہ کذاب سے جہاد فرمایا اور اﷲ تعالیٰ نے حضرت وحشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو یہ سعادت بخشی کہ ان کے ہاتھ سے مسیلمہ کو قتل کرایا اور حضرت وحشی رضی اﷲ عنہ نے اعلان کیا قَتَلْتُ فِیْ جَاہِلِیَّتِیْ خَیْرَ النَّاسِ میں نے زمانۂ کفر میں بہتر ین انسان سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوقتل کیاوَقَتَلْتُ فِیْ اِسْلَامِیْ شَرَّ النَّاسِ10؎اور زمانۂ اسلام میں سب سے بدترین انسان کو میں نے قتل کیا،یعنی میری تاریخ جو سیاہ ہوچکی تھی اس تاریخ کو اﷲ نے روشن فرمادیا۔
حضرت وحشی کے اسلام کا واقعہ
حضرت وحشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا اسلام بھی عجیب طریقے سے ہوا جس کو علامہ محمود نسفی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر خازن کے حوالے سے پیش کر رہا ہوں۔ حضرت وحشی رضی اﷲ عنہ کو اﷲ تعالیٰ نے سرور عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اے محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم)! آپ وحشی کو دعوتِ اسلام پیش کیجیے۔سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنا قاصد بھیجا کہ اﷲ تعالیٰ تم کو یاد فرمارہے ہیں، اﷲ پر ایمان لے آؤ۔ وحشی حالتِ کفر میں ہے، رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تو بعد میں ہوئے، ابھی ایمان نہیں لائے، لہٰذا انہوں نے جواب دیا کہ آپ کے خدا نے تو قرآنِ پاک میں یہ نازل فرمایا کہ جو مشرک ہوگا،قاتل ہوگا، زانی ہوگا یَلۡقَ اَثَامًا، یُّضٰعَفۡ لَہُ الۡعَذَابُ11؎ یہ شخص مجرم ہے اس کو تو ڈبل عذاب ملے گا، لہٰذا آپ مجھے کیسے دعوتِ اسلام دے رہے ہیں، جبکہ میں یہ سب کام کرچکا ہوں؟وَاَنَا قَدْ فَعَلْتُ ذٰلِکَ کُلَّہٗ میں نے قتل بھی کیا، شرک بھی کیا کوئی گناہ نہیں چھوڑا۔ دیکھیےسوال و جواب چل رہے ہیں،اﷲ تعالیٰ کا پیغام بواسطۂ نبوت وحشی کو پہنچ رہا ہے اور وحشی کا پیغام بواسطۂ نبوت اﷲ تعالیٰ تک پہنچ رہا ہے۔ آپ سوچئے کہ اس کے بعد اگر اﷲ تعالیٰ عذاب نازل کرتا تو کیا عجب تھا، کہ اچھا مردود نخرے بھی کرتا ہے! اس کے اوپرآگ برسادو ، لیکن آہ! ارحم الراحمین کی شان دیکھیے کہ ان کے اسلام کے لیے دوسری آیت نازل ہورہی ہے:
_____________________________________________
10؎ روح المعانی:161/6 ،المآئدۃ(53)، داراحیاءالتراث،بیروت
11؎ الفرقان : 68،69